براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 382
۳۲۰ روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا ا میں ہمیشہ تغیر تبدل کرتا رہتا ہے کیوں جائز نہیں کہ ابتدا میں بھی اسی طرح ذرہ ذرہ کا علم رکھتا اور کوئی چیز اس پر پوشیدہ نہ رہ سکتی اور جن معلومات سے اس کا اقبال چکتا اور اُس کی آفات دور ہوتی وہ سب معلومات اپنے تقدس اور پاکیزگی کی جہت سے آپ ہی حاصل کر لیتا اور کبھی اس کو کسی جہت سے تکلیف اور رنج نہ پہنچتا مگر تعجب کہ پنڈت صاحب نے باوجود اس قدرا انکار اور اصرار کے جو ان کو کلام الہی کے بارہ میں ہے پھر بھی انہوں نے ہمارے ان دلائل اور براہین کو کہ جو ضرورت کلام الہی پر بطور یقینی و قطعی ناطق ہیں تو ڑ کر نہیں دکھلایا بلکہ اُن کی طرف توجہ ہی نہیں کی ۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں ہم نے ضرورت کلام الہی اور اس کے تحقیق وجود پر کامل دلائل لکھ دی تھی بلکہ بطور نمونہ بعض الہامات پیش بھی کر دئیے تھے ۔ تو اس صورت میں اگر پنڈت صاحب حق مجو و حق گو ہو کر بحث کرتے تو ان کے لئے بجز اس کے اور کوئی طریق نہ تھا کہ وہ ہمارے دلائل کو تو ڑ کر دکھلاتے اور جو کچھ ہم نے ثبوت ضرورت الہام اور ثبوت وجود الہام اپنی کتاب میں دیا ہے اس ثبوت کو اپنے دلائل بالمقابل سے معدوم اور مرتفع کرتے ۔ لیکن پنڈت صاحب کو خوب معلوم ہے کہ اس عاجز نے دومرتبہ علی التواتر دوخط رجسٹر کرا کر اس غرض سے ان کی خدمت میں بھیجے کہ اگر ان کو اس عادت الہی میں کچھ تر دو در پیش ہے کہ وہ ضرور بعض بندوں سے مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے اور ان کو ایسی چیزوں اور ایسے علموں سے اپنے خاص کلام کے ذریعہ سے مطلع فرماتا ہے کہ جن کی شان عظیم تک وہ خیالات نہیں پہنچ سکتے کہ جن کا منشاء اور منبع صرف انسان کے تخیلات محدودہ ہیں ۔ تو چند روز صدق اور صبر سے اس عاجز کے پاس ٹھہر کر اس صداقت کو جو ان کی نظر میں ممتنع اور محال اور خلاف قوانین نیچر ہے۔ بچشم خود دیکھ لیں ۔ اور پھر صادقوں کی طرح وہ راہ اختیار کریں جس کا اختیار کرنا صادق آدمی کے صدق کی شرط اور اس کی صاف باطنی کی علامت ہے ۔ مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے باوجود سنیاس دھارنے