براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 381
روحانی خزائن جلد 1 ۳۷۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم بولی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی یہ وہم پیش کرے کہ جس طرح طبعی طور پر خدا تعالیٰ بولیوں ﴿۳۲۵ به حاشیه نمبراا ر یو یو بھی لکھا ہے۔ لیکن چونکہ بقول مشہور سانچ کو آنچ نہیں۔ اور آفتاب صداقت کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔ اس لئے پنڈت صاحب نے جس قد رکوشش کی اس کا بجز اس کے ار کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ دانشمندوں پر صاف کھل گیا ہے کہ پنڈت صاحب حق کے قبول کرنے سے کس قدر نفرت (۳۱۹ رکھتے ہیں۔ سو اگر چہ پنڈت صاحب کی وہ تحریر اس لائق ہر گز نہیں کہ اس کے رڈ کرنے کی طرف توجہ کی جائے بلکہ خود ہمارے مضمون گزشتہ کو غور سے پڑھنا اس کے رد کے لئے کافی و وافی ہے لیکن اس جہت سے کہ تا پنڈت صاحب کچھ افسوس نہ کریں یا ان کے بعض رفیق ہماری اس خاموشی کو اپنی خوش فہمی سے کسی طور کے عجز پر حمل نہ کر بیٹھیں قرین مصلحت معلوم ہوا کہ گو پنڈت صاحب کی تحریر کیسی ہی بے حقیقت ہے۔ تب بھی منصفین پر اس کی اصلیت ظاہر کی جائے ۔ سو واضح ہو کہ پنڈت صاحب نے ہمارے ثبوت کے مقابلہ پر اپنے ریویو میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جس طریق سے کتب آسمانی کا الہامی ہونا مانا جاتا ہے وہ طریق عقلا ممتنع اور محال ہے اور قوانین نیچر یہ کے برخلاف ہونے کی وجہ سے ہرگز وہ طریق درست نہیں۔ یعنے پنڈت صاحب کی نظر شریف میں وہ الہام ہرگز ممکن الوجود نہیں جس کو کلام الہی کہا جاتا ہے۔ اور جو محض خداوند حکیم و عالم الغیب کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی ذات پاک کی طرح ہر یک شک و شبہ اور غلطی و سہو اور نسیان سے بکی پاک ہوتا ہے اور جو صفات کا ملہ خدا کے کلام میں چاہئے اُن تمام صفتوں سے موصوف ہوتا ہے یعنی جیسے خدا عالم الغیب ہے وہ کلام بھی علم غیب پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور جیسے خدا حکیم و علیم ہے وہ کلام بھی حکمت اور علم پر اشتمال رکھتا ہے۔ اور جیسے خدا غلطی اور جھوٹ اور سہو اور نسیان سے پاک ہے وہ کلام بھی ان تمام امور سے پاک ہوتا ہے اور انسانی خیالات کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں ہوتا اور نہ انسان کے اختیار میں ہے کہ کسی نوع کا تقدس اور پاکیزگی حاصل کر کے یا کوئی اور حیلہ اور تد بیر بجالا کر خواہ نخواہ وہ الہام اپنے نفس پر آپ ہی کھول دیا کرے اور انوار غیبیہ اور امور پنہانی اور اسرار آسمانی پر جب چاہے آپ ہی مطلع ہو جائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوسکتا تو انسان بھی خدا کی