براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 360
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۵۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم (۳۰) سب انسان ایک ہی نوع میں داخل ہیں ماسوا اس کے یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ خیال نہیں کیا جائے گا کہ وہ درخت رحمت اپنی تمام شاخوں کے ساتھ جو صفات کا ملہ ہیں اپنی مخلوق پر سایہ انگلن نہیں بلکہ بعض ٹہنیاں اس کی خشک بھی ہیں جن سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا یہ تو کسی بر ہمو سماج والوں کا خوش اعتقاد ہے پھر ایسے لوگ باوجود ان ذلیل اور باطل اعتقادوں کے قرآن شریف کو کہ جو تمام صداقتوں کا چشمہ ہے ایسا خیال کر رہے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ خدا کا کلام نہیں بلکہ خود غرضی سے لکھا گیا ہے۔ اور چونکہ برے خیالات اچھے خلقوں سے محروم رکھتے ہیں اس لئے یہ لوگ بھی قرآن شریف پر بد گمانی کر کے طرح طرح کے خبائث میں پڑ گئے اور انواع اقسام کی اہانت روا رکھی ۔ تندرست کو بیار قرار دے دیا اور اپنے گھر کے ماتم سے بے خبر رہے۔ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جو کتاب خود غرضی سے لکھی جاتی ہے کیا اس کی یہی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ وہ حکمت میں معرفت میں حقائق میں دقائق میں سب کتابوں سے افضل و اعلیٰ ہو۔ اور انسان اس کے مقابلہ سے عاجز ہو۔ کیا ایسی کتاب کو انسان کا افترا کہنا چاہئے ۔ جس کے مقابلہ پر اگر سارے انسان فکر کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی اس کے سامنے کچھ بن نہیں پڑے۔ کیا ایسے مقدس اور معصوم اور پاک اور کامل انسان کو نفسانی اور اہل غرض کہنا چاہئے جس نے دنیا کی تعلیموں میں سے ایک ذرا حصہ نہ پایا اور امی اور محض بے علم ہو کر حکیموں کو اپنے فضائل علمیہ سے شرمندہ کیا تمام فلاسفروں کا گھمنڈ توڑا۔ گم گشتہ لوگوں کو خدا کا راستہ دکھایا ۔ اگر اس کام کو کسی انسان نے کیا ہے تو گویا وہ انسان نہیں خدا ہی ہوا جس نے ایسا کام کر دکھایا۔ جس کی نظیر پیش کرنے سے انسانی قوتیں قاصر و در ماندہ ہیں۔ اگر وہ پاک نبی جو قرآن شریف لایا نعوذ باللہ نفسانی آدمی ہے تو پھر ان لوگوں کا نام کیا رکھیں جو بڑے بڑے عاقل اور حکیم و فلاسفر بلکہ خدا کہلا کر اور مخلوق پرستوں کی نظر میں رب العالمین بن کر پھر بھی فضائل علمیہ میں اس کے برابر نہ ہو سکے اور ان کی کلام نے قرآن شریف کے سامنے اتنی بھی حیثیت پیدا نہ کی جیسی سمندر کے سامنے ایک نیم قطرہ کی حیثیت ہوتی ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی