براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 361
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۵۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہر یک بولی انسان کی ہی ایجاد ہے بلکہ بکمال تحقیق ثابت ہے کہ موجد اور خالق کسرشان روا رکھ کر یہ خیال نہیں کرتے کہ اس سے ایک عالم کی کسر شان لازم آتی ہے۔ کوئی اپنی عقل پر ناز کرے یا بزعم خود کسی دوسرے نبی کا تابع بن بیٹھے۔ اس کے لئے یہی سیدھا راستہ ہے کہ اول انتہا کی کوشش کر کے قرآن شریف کے حقائق و معارف کے مقابلہ پر اپنی عقل یا اپنی الہامی کتاب میں سے ویسے ہی حقائق حکمیہ نکال کر دکھلا دے پھر جو چاہے بکا کرے۔ مگر قبل اس کے جو اس مہم کو انجام دے سکے جو کچھ وہ کسر شان قرآن شریف کرتا ہے یا جو الفاظ تحقیرانہ حضرت خاتم الانبیاء کے حق میں بولتا ہے۔ وہ حقیقت میں اسی نادان ناقص العقل پر یا اس کے کسی نبی و بزرگ پر وارد ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر آفتاب کی روشنی کو تاریکی قراردیا جائے تو پھر بعد اس کے اور کون سی چیز رہے گی جس کو ہم روشن کہہ سکتے ہیں۔ ، حاشیه نمبرا | پا نهاده یہ لجه طغیان اے سر خود کشیده از فرقان بانگ کم کن به پیش نور بدای توبه کن از فسوس و بازیها ایس چه چشمه ست کور و سخت کبود کا فتا ہے تا نگیری کناره زین ره و خو بست درو چو ذره نمود دور از کنار کشتی تو با خدایت عناد و کین تا چند خنده و بازیت بدین تا چند خویشتن را نکش به ترک حیا جائے گریہ مشو باستهزا مهر تابان چو بر فلک رخشید چون توانی بخاک و خس پوشید شب توان کرد صد فریب نهان لیک در روز روشن این نتوان نور فرقان نه تافت است چنان کو بماند نہاں ز دیده وران و رہنماست دنیا را نعمتے از سماست دنیا آن چراغ برای ست دنیا را رہبر رحمتے از خداست دنیا را را مخزن راز ہائے ربانی از خدا الم خدا دانی ۳۰۹