براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 342

براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۴۰ روحانی خزائن جلد ۱ عظمت و شوکت بھی زیادہ تر ہے اور اگر اس دلیل کو بھی نظر سے ساقط کر دیا تھا تو ، حاشیه نمبر بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ہے ایسے وقت میں اگر کوئی ایسا شخص کہ جو اس کی نظر میں نہایت مقدس و کامل و بزرگوار ہے اسے سمجھ جاتا ہے کہ صبر کر صابروں کے جناب الہی میں بڑے بڑے بڑے بڑے اجر ہیں اور یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں سوا گرچہ یہ بات اس کو پہلے بھی معلوم ہی تھی پر اس کے مونہہ سے سن کر ایک عجیب طرح کا اثر ہوتا ہے کہ جو گرتے ہوئے کو تھام لیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر وقت اور ہر محل میں اپنے ہی خود تراشیدہ خیالات اپنے دل پر اثر ڈال نہیں سکتے بلکہ بسا اوقات جذبات نفسانی یا آلام روحانی سے ایسی عقل دب جاتی ہے کہ انسان میں سوچنے اور سمجھنے کی قوت ہی نہیں رہتی اور اس وقت وہ خود اپنے تئیں اس حالت میں پاتا ہے کہ اس کے لئے کسی دوسرے کی طرف سے ترغیب یا ترہیب یا تسلی تشفی کی باتیں صادر ہوں ۔ پس ان تمام امور پر نظر ڈالنے سے دانا انسان اس نتیجہ تک پہونچ سکتا ہے کہ خدا نے جو اس کی فطرت کو ایسا بنایا ہے یہی وضع فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حکیم مطلق نے انسان ضعیف البنیان کو اپنی ہی رائے اور قیاس پر چھوڑ نا نہیں چاہا بلکہ جس طور کے واعظوں اور متکلموں سے اس کی تسلی اور تشفی ہو سکتی ہے اور اس کے جذبات نفسانی دب سکتے ہیں اور اس کی روحانی بے قراریاں دور ہو سکتی ہیں وہ سب متکلم ہیں وہ سب متکلم اس کے لئے پیدا کئے ہیں اور جس کلام سے اس کی امراض و اعراض دور ہو سکتی ہیں وہ کلام اس کے لئے مہیا کیا ہے یہ ثبوت ضرورت الہام کا کسی اور طرز سے نہیں بلکہ خدا کا ہی قانون قدرت اسے ثابت کرتا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا میں کروڑہا آدمی کہ جو مصیبت میں معصیت میں غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں ہمیشہ وہ دوسرے واعظ اور ناصح سے متاثر ہوا کرتے ہیں اور ہر جگہ اپنا ہی علم اور اپنے ہی خیالات ہرگز کافی نہیں ہوتے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جس قدر متکلم کی ذاتی عظمت اور وقعت سامع کی نظر میں ثابت ہو اسی قدر اس کا کلام تسلی اور تشفی بخشتا ہے اسی شخص لی بخشتا ہے اسی شخص کا وعدہ موجب تسکین خاطر ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں صادق الوعد اور ایفاء وعدہ پر قادر بھی ہو اس صورت میں کون اس بدیہی بات میں کلام کر سکتا ہے کہ امور معاد اور ماوراء الحسوسات میں اعلیٰ مرتبہ ایک اور عیسائی صاحب ۲۵ ۔ مئی ۱۸۸۲ء کے نورافشان میں یہ سوال کرتے ہیں کہ کون کون سے علامات یا شرائط ہیں جن سے سچے اور جھوٹے نجات دہندہ میں تمیز کی جاسکے ۲۹۳ ۲۹۳