براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 339
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور بے مثل و مانند تسلیم کرتے ہیں ان طاقتوں کے آثار کو بھی بے مثل و مانند 1 کہ میں موجود ہوں اس سے انسانوں کے صرف قیاسی خیالات برابر نہیں ہو سکتے ۔ بلاشبہ خدا کا اپنے وجود کی نسبت خبر دینا ایسا ہے کہ گویا خدا کو دکھلا دیتا ہے مگر صرف قیاساً انسان کا کہنا ایسا نہیں ہے اور جبکہ خدا کے کلام سے کہ جو اس کے وجود خاص پر دلالت کرتا ہے ہمارے عقلی خیالات کسی طرح برابر نہیں ہو سکتے تو پھر تکمیل یقین کے لئے کیوں اس کے کلام کی حاجت نہیں ۔ کیا اس صریح تفاوت کو دیکھنا تمہارے دل کو ذرا بھی بیدار نہیں کرتا ؟ کیا ہمارے کلام میں کوئی بھی ایسی بات نہیں کہ جو تمہارے دل پر مؤثر ہو ؟ اے لوگو اس بات کے سمجھنے میں کچھ بھی وقت نہیں کہ عقل انسانی مغیبات کے جاننے کا آلہ نہیں ہو سکتی اور کون تم میں سے اس بات کا منکر ہوسکتا ہے کہ جو کچھ بعد فوت کے پیش آنے والا ہے وہ سب مغیبات میں ہی داخل ہے مثلاً تم سوچو کہ کسی کو واقعی طور پر کیا خبر ہے کہ موت کے وقت کیونکر انسان کی جان نکلتی ہے اور کہاں جاتی ہے اور کون ہمراہ لے جاتا ہے اور کس مقام میں ٹھہرائی جاتی ہے اور پھر کیا کیا معاملہ اس پر گزرتا ہے ان سب باتوں میں عقل انسانی کیونکر قطعی فیصلہ کر سکے۔ قطعی طور پر تو انسان تب فیصلہ کر سکتا ۲۹۱ کہ جب ایک دو مرتبہ پہلے مر چکا ہوتا اور وہ راہیں اسے معلوم ہوتیں جن راہوں سے خدا تک پہنچتا تھا اور وہ مقامات اسے یاد ہوتے جن میں ایک عرصہ تک اس کی سکونت رہی تھی مگر (۲۹۱ اب تو نری انکلیں ہیں گو ہزار احتمال نکالو موقعہ پر جا کر تو کسی عاقل نے نہ دیکھا اس صورت میں ظاہر ہے کہ ایسے بے بنیا د خیالات سے آپ ہی تسلی پکڑنا ایک طفل تسلی ہے حقیقی تسلی نہیں ہے۔ اگر تم محققانہ نگاہوں سے دیکھو تو آپ ہی شہادت دو کہ انسان کی عقل اور اس کا کانشنس ان سب امور کو علی وجہ الیقین ہرگز دریافت نہیں کر سکتا اور صحیفہ قدرت کا کوئی صفحہ ان امور پر یقینی دلالت نہیں کرتا۔ دور دراز کی باتیں تو ایک طرف رہیں اول قدم میں ہی عقل کو حیرانی اس کا کمال ظاہر کر دکھایا۔ دنیا کے سخت محتاج ہو کر کیوں اس قد ر روپیہ نا حق چھوڑتے ہیں اور اگر اکیلے اس کام کو انجام دینا ممکن نہیں تو دو چار یا دس ہیں دوسرے پادری ۲۹۱