براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 327
روحانی خزائن جلد 1 ۳۲۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بھی خدا کا اپنی ذات اور جمیع صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری اور ۲۸۱) ه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ تو علانیہ یہ رائے ظاہر کر دی ہے کہ گو کوئی کتاب ایسی ہو کہ جو سراسر خدا کی ہستی کی قائل اور اس کو واحد لاشریک اور قادر اور خالق اور عالم الغیب اور حکیم اور رحمان اور رحیم اور دوسری صفات کاملہ سے یاد کرتی ہو اور حدوث اور فنا اور تغیر اور تبدل اور شرکتِ غیر وغیرہ امور نا قصہ سے پاک اور برتر سمجھتی ہو مگر تب بھی وہ کتاب ان کے نزدیک غلطی کے امکان سے خالی نہیں اور اس لائق نہیں کہ جو اس پر یقین کیا جائے اور اسی وجہ سے یہ لوگ قرآن شریف سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ اب دیکھو کہ ان کے دین وایمان کا انہیں کے اقرار سے یہ خلاصہ نکلا کہ ان کے نزدیک خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت اور قادریت بھی امکان غلطی سے خالی نہیں !! ۲۸۱ غرض جب کہ انہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ ان کے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں جس کی صحت ان کے نزدیک یقینی ہو تو اس سے صاف کھل گیا کہ ان کے مذہب کی بنیاد سراسر خلقیات پر ہے اور ایمان ان کا مراتب یقینیہ سے بلکلی دور و مجور ہے ۔ پس یہ وہی بات ہے جس کو ہم بارہا اسی حاشیہ میں لکھ چکے ہیں کہ مجرد عقلی تقریروں سے علم الہیات میں کامل تسلی اور تشفی ممکن نہیں ۔ اس صورت میں ہمارا اور برہمو لوگوں کا اس بات پر تو اتفاق ہو چکا کہ مجرد عقل کی رہبری سے کوئی انسان یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور ما بہ النزاع فقط یہی امر تھا کہ کیا خدا نے برہمو لوگوں کی رائے کے موافق انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ با وجود جوش طلب یقین کامل اور حق محض کے جو اس کی فطرت میں ڈالا گیا ہے پھر بھی اپنی اس فطرتی مراد سے نا کام اور بے نصیب رہے۔ اور صرف ایسے خیالوں تک اس کا علم محدود رہے کہ جو امکان غلطی سے خالی نہیں یا خدا نے اس کی معرفت کامل اور پوری پوری کامیابی کے لئے کوئی سبیل بھی مقرر کر رکھا ہے۔ اور کوئی ایسی کتاب بھی عطا فرمائی ہے کہ جو اس اصول متذکرہ بالا سے میں پائی جاتی ہیں ۔ چنانچہ آپ بھی تو اقرار کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے اصول سے انجیلی تعلیم کو (۲۸۱ بہت کچھ مشابہت ہے۔ پس اس اقرار سے ہی آپ اپنے مونہہ سے ہندوؤں کے دعوی