براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 324
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۲۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم سمجھایا جو سارے گناہوں سے پاک وصاف کرتا ہے اور اس راستبازی کی بابت سمجھایا کہ جو اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ مفت ملتی ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنسکرت میں انجیل دیکھی ہے اور ایک دو دفعہ یسوع مسیح سے دعا مانگی ہے اور اب میں خوب انجیل کو دیکھوں گا اور زور زور سے عیسی مسیح سے دعا مانگوں گا۔ (یعنے مجھے کو آپکے وعظ سے بڑی تاثیر ہوئی اور عیسائی مذہب کی کامل رغبت پیدا ہوگئی ) اب دیکھنا چاہئے کہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر نے کس محنت سے ہندور کیس کو اپنے مذہب کی طرف مائل کیا اور اگر چہ ایسے ایسے رئیس اپنے مطلب نکالنے کے لئے حکام کے رو بروایسی ایسی منافقانہ باتیں کیا کرتے ہیں تا حکام ان پر خوش ہو جا ئیں اور ان کو اپنا دینی بھائی بھی خیال کر لیں۔ لیکن اس تقریر سے مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ صاحب موصوف کی اس گفتگو سے گورنمنٹ انگریزی کی آزادی کو سمجھ لینا چاہئے کیونکہ جب خود نواب لفٹنٹ گورنر بہادر اپنے خوش عقیدہ کا ہندوستان میں پھیلانا بدلی رغبت چاہتے ہیں بلکہ اس کے لئے کبھی کبھی موقعہ پا کر تحریک بھی کرتے ہیں تو پھر وہ دوسروں پر اپنے اپنے دین کی ہمدردی کرنے میں کیوں ناراض ہوں گے اور حقیقت میں یکرنگی سے ہمدردی بجالانا ایک نیک صفت ہے جس پر نفاق کی سیرت کو قربان کرنا چاہئے۔ اسی یکرنگی کے جوش سے بمبئی کے سابق گورنر سر رچرڈ ٹیمپل صاحب نے مسلمانوں کی نسبت ایک مضمون لکھا ہے چنانچہ وہ ولایت کے ایک اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ نامی میں چھپ کر اردو اخباروں میں بھی شائع ہو گیا ہے۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ مسلمان لوگ عیسائی نہیں ہوتے اور وجہ یہ ہے کہ ان کا مذہب ان ناممکن باتوں سے لبریز نہیں ہے جن میں ہندو مذہب ڈوبا ہوا ہے۔ ہندو مذہب اور بدھ مذہب کے قائل کرنے کیلئے ممکن ہے کہ ہنسی ہنسی میں عام دلائل سے قائل کر کے ان کو مذہب سے گرایا جائے لیکن اسلامی مذہب عقل کا مقابلہ بخوبی کرتا ہے اور دلائل سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ عیسائی لوگ آسانی سے دوسرے مذہبوں کے ناممکنات ظاہر کر کے ان کے پیرؤں کو مذہب سے ہٹا سکتے ہیں مگر محمد یوں کے ساتھ ایسا کرنا ان کیلئے ٹیڑھی لکیر ہے۔ سو یہ یکرنگی مسلمان امیروں میں نہیں پائی جاتی چہ جائیکہ وہ اس مضمون پر غور کریں۔ خاکسار غلام احمد