براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 320
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۱۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم نہ کھاویں تو گنہگار ہوں۔ اور ایسی ہی ایک اور کتاب انہیں دنوں میں ایک پنڈت صاحب نے بمقام کلکتہ چھپوائی ہے جس میں لکھا ہے کہ وید کے زمانہ میں گائے کا کھانا ہندوؤں کے لئے دینی فرائض میں سے تھا اور بڑے بڑے اور عمدہ عمدہ ٹکڑے برہمنوں کو کھانے کے لئے ملتے تھے۔ اور علی ھذا القیاس مہا بھارت کے پرب تیرھویں میں بھی صاف تصریح ہے کہ گوشت گائے کا نہ صرف حلال اور طبیب بلکہ اس کا اپنے پتروں کے لئے برہمنوں کو کھلا نا تمام جانوروں میں سے اولی اور بہتر ہے اور اس کے کھلانے سے پتر دس ماہ تک سیر رہتے ہیں۔ غرض وید کے تمام رشیوں اور منوجی اور بیاس جی نے گوشت گائے کا استعمال کرنا فرائض دینی میں داخل کیا ہے اور موجب ثواب سمجھا ہے اور اس جگہ ہمارا بیان بعض کی نظر میں ناقص رہ جا تا اگر ہم پنڈت دیا نند صاحب کو کہ جو ۳۰ اکتوبر ۱۸۸۳ء میں اس جہان کو چھوڑ گئے رائے متفقہ بالا سے باہر رکھ لیتے ۔ سو غور سے دیکھنا چاہئے کہ پنڈت صاحب موصوف نے بھی کسی اپنی کتاب میں گائے کا حرام یا پلید ہونا نہیں لکھا اور نہ وید کے رو سے اس کی حرمت اور ممانعت ذبح کو ثابت کیا بلکہ بنظر ارزانی دودھ اور گھی کے اس رواج کی بنیاد بیان کی اور بعض ضرورت کے موقعوں میں گاؤ کشی کو مناسب بھی سمجھا جیسا کہ ان کی ستیارتھ پر کاش اور وید بھاش سے ظاہر ہے۔ اب اس تمام تقریر سے ہماری یہ غرض ہر گز نہیں کہ آریہ لوگ اپنے وید مقدس اور اپنے بزرگ رشیوں اور بیاس جی اور منوجی کے قابل تعظیم فرمان اور اپنے محقق اور فاضل پنڈتوں کے قول سے کیوں خلاف ورزی اور انحراف کرتے ہیں بلکہ اس جگہ صرف یہ غرض ہے کہ آریہ قوم کیسی اولوالعزم اور با ہمت اور اتفاق کرنے والی قوم ہے کہ ایک ادنی بات پر بھی کہ جس کی مذہب کے رو سے کچھ بھی اصلیت نہیں پائی جاتی وہ اتفاق کر لیتے ہیں اور ہزار ہا روپیہ چندہ ہاتھوں ہاتھ جمع ہو جاتا ہے۔ پس جس قوم کا ناکارہ خیالات پر یہ اتفاق اور جوش ہے اس قوم کی عالی ہمتی اور دلی جوش کا مہمات عظیمہ پر خود اندازہ کر لینا چاہئے ۔ پست ہمت مسلمانوں کو لازم ہے کہ جیتے ہی مرجائیں۔ اگر محبت خدا اور رسول کی نہیں تو اسلام کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں کیا خباثت