براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 321
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۱۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم کے کاموں میں اور نفس امارہ کی پیروی میں اور ناک کے بڑھانے کی نیت سے بے اندازہ مال ج ) ضائع کرنا اور اللہ اور رسول کی محبت میں اور ہمدردی کی راہ میں ایک دانہ ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہی اسلام ہے نہیں یہ ہرگز اسلام نہیں۔ یہ ایک باطنی جذام ہے۔ یہی ادبار ہے کہ مسلمانوں پر عاید ہو رہا ہے۔ اکثر مسلمان امیروں نے مذہب کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے کہ جس کی ہمدردی غریبوں پر ہی لازم ہے اور دولتمند اس سے مستقلی ہیں۔ جنہیں اس بوجھ کو ہاتھ لگانا بھی منع ہے۔ اس عاجز کو اس تجربہ کا اسی کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقعہ ملا کہ حالانکہ بخوبی مشتہر کیا گیا تھا کہ اب باعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سور و پیری مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہو گئے ۔ خوب جبر کیا ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدر آباد نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے ایک نسخہ کی قیمت میں سوسور و پیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس اور نواب صاحب کو ٹلہ مالیر نے تین نسخہ کی قیمت میں سوار و پیہ بھیجا اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لودھیانہ نے کہ جو ایک ہندو رئیس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور امانت میں بھیجے ہیں۔ سردار صاحب موصوف نے ہندو ہونے کی حالت میں اسلام سے ہمدردی ظاہر کی۔ بخیل اور ممسک مسلمانوں کو جو بڑے بڑے لقبوں اور ناموں سے بلائے جاتے ہیں اور قارون کی طرح بہت سا روپیہ دبائے بیٹھے ہیں اس جگہ اپنی حالت کو سردار صاحب کے مقابلہ پر دیکھ لینا چاہئے جس حالت میں آریوں میں ایسے لوگ بھی پائے گئے ہیں کہ جو دوسری قوم کی بھی ہمدردی کرتے ہیں اور مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی کم ہیں کہ جو اپنی ہی قوم سے ہمدردی کر سکیں تو پھر کہو کہ