براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 312
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۱۰ براہین احمدیہ حصہ بذریعہ تجارب متواترہ ثابت بھی ہو گیا تو اس سے انکار کرنا اگر حمق اور دیوانگی نہیں تو ۲۷۸) اور کیا ہے ۔ اور سب سے زیادہ تر حمق یہ ہے کہ حضرت باری کے خواص صفات اور افعال سے انکار کیا جائے ۔ کیونکہ دوسری چیزوں کا خاصہ کہ جو ان کے غیر میں نہیں پا یا جا تا محض تجربہ سے ثابت ہوتا ہے اور کوئی عقلی دلیل اس کی ضرورت پر قائم نہیں ہوتی ۔ مگر جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا مد ہوش یا دیوانہ ہیں یا تمام حواس بیک دفعہ معطل اور بیکار ہو گئے ہیں کہ سنایا گیا پھر نہیں سنتے اور سمجھایا گیا پھر نہیں سمجھتے۔ اور دکھایا گیا پھر نہیں دیکھتے۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم ان کا بھی سراسر لغو اور بیہودہ ہے کہ تحقیقات کا سلسلہ ہمیشہ آگے سے آگے ہی چلا جاتا ہے اور کسی حد پر آکر ختم نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کام دنیا اور دین کا کبھی اختتام کونہ پہنچتا اورکسی حج کے لئے ممکن نہ ہوتا کہ کوئی مقدمہ قطعی طور پر فیصل کر سکے اور حکم عدالت بوجہ اشتباہ دائی غیر ممکن اور نا جائز بھہر جاتا مگر کیا یہ درست ہے کہ حقائق کل اشیاء کبھی اور کسی طرح پر صفائی اور درستی سے منکشف نہیں ہو تیں اور ہمیشہ کلام اور بحث کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے۔ حاشا و گلا ہر گز یہ رائے صحیح نہیں بلکہ اسی وقت تک کوئی واقعہ مشتبہ رہتا ہے اور صفائی سے ثابت نہیں ہوتا جب تک کسی امر کے دریافت کرنے میں مدار کار صرف اکیلی عقل پر ہوتا ہے اور جبھی کہ کوئی رفیق ان ضروری رفیقوں میں سے جن میں سے ایک وحی رسالت ہے کہ جو امور ماوراء الحسوسات اور عالم معاد کا مخبر ہے عقل کو مل جاتا ہے تو تب تحقیقات عقلی مرتبہ یقین کامل تک پہنچ جاتی ہے۔ سو کبھی معقل الہام کامل کی رفاقت سے اور کبھی متواتر تجارب کی شہادت سے اور بھی مضبوط اور محکم تاریخی گواہوں سے بھنے جیسا کہ موقع ہو کسی رفیق کے ذریعہ سے کامل یقین کو پالیتی ہے۔ ہاں اگر عقل کو اس راہ کا رفیق میسر نہ آوے جس راہ پر وہ چلنا چاہتی ہے تو تب مرتبہ یقین کامل تک بلا شبہ نہیں پہنچتی بلکہ غایت کا رظن غالب تک پہنچتی ہے۔ لیکن جب راه مقصود کا رفیق میسر آجائے تو بلا ریب وہ اس کو مرتبہ کامل یقین تک پہنچا دیتا ہے۔ ہے وہی خیال آپ قرآن شریف کی نسبت گھسیٹ لائے ۔ اتنا بڑا جھوٹ آپ نے مدت العمر بولا نہیں ہوگا کہ جو اب عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے بول اٹھے۔ بہر حال یہ مقولہ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر نوٹ: مضمون کے تسلسل کے لئے دیکھئے صفحہ ۳۲۳ برا امین احمدیہ حصہ چہارم (شمس)