براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 311
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۰۹ براہین احمدیہ حصہ سوم کئی دفعہ آزما کر دیکھ لیا۔ اور بار بار تجربہ کر کے معلوم کر لیا کہ سم الفار بالخاصیت قاتل ہے۔ اگر وہ پھر بھی سم الفار کی اس خاصیت سے اس خیال سے انکار کرتا رہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ کیوں وہ قاتل ہے۔ تو ایسا شخص دانشمندوں کی نظر میں دیوانہ بلکہ دیوانوں (۲۷۷) سے بدتر ۔ تر ہے۔ کیونکہ اول تو یہ صداقت فی حد ذاتہ واقعی اور درست ہے کہ موجودات میں طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں۔ اور پھر جب ایک شے معین کا خاصہ اور ثنا خواں اور مداح ہیں اور بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ الہام حقیقی ان کو خیالات کی ترقی سے نہیں روکتا بلکہ خیالات کی سرگشتگی سے روکتا ہے اور انواع و اقسام کے بیچ در پیچ اور مشتبہ راہوں میں سے ایک خاص راه مقصود جتلا دیتا ہے جس پر قدم مارنا عقل کو نہایت آسان ہو جاتا ہے اور جو جو مشکلات انسان کو بباعث قلت عمر وقلت طاقت علمی و کمی بصیرت پیش آتی ہیں اُن سب سے خلاصی بخشتا ہے۔ ہم بارہا } لکھ چکے ہیں کہ عقل انسانی اپنی فطرت میں ایسی ناقص اور نا تمام ہے کہ بغیر استمد او کسی دوسرے رفیق کے اس کا کوئی کام چل ہی نہیں سکتا۔ اور جب تک شہادت واقعہ اس کو نہ ملے تب تک کوئی مقدمہ خواہ دینی ہو خواہ دنیوی صفائی و درستی اس سے فیصل نہیں ہوسکتا اور جبھی کہ شہادت واقعہ کسی معتبر ذریعہ سے مل جائے تب ہی عقل کو ایسی آسانی ہو جاتی ہے کہ گویا ایک پہاڑ مشکلات کا سر پر سے ٹل جاتا ہے اور جس حالت میں عقل انسانی فطرتی طور پر محتاج رفیق بڑی ہوئی ہے۔ تو پھر وہ خود بخود داور تن تنہا کیونکر خیالات میں ترقی کرے گی۔ اور یہ بھی ہم بدفعات تحریر کر چکے ہیں کہ الہیات اور علم معاد میں منتقل کے اس نقصان کا جبر قرآن شریف کرتا ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ تمام دلائل عقلیہ کو بھی آپ ہی بیان فرماتا ہے اور تمام دینی صداقتوں کی طرف آپ ہی رہنما اور رہبر ہے اور اس طرف بھی ابھی اشارہ ہو چکا ہے کہ (۲۷۸) اگر کسی کو اس بات کی تصدیق اور تحقیق منظور ہو تو اس کے بھی ہم ہی ذمہ دار ہیں اور ہر یک طالب صادق بذریعہ امتحان ہم سے اپنی تسلی کر سکتا ہے۔ تو پھر با وجود اس کے کہ ہر یک طرح سے رفع عذر کر کے اتمام حجت کیا گیا ہے۔ کیوں پر ہمو سماج والے اپنی فضول گوئی سے باز نہیں آتے ۔ کیا کسی نشہ سے دکھاتا کہ قرآن کہاں کہاں سے لیا گیا۔ واہ حضرات ! آپ نے تو یہ یہودیوں کے نقش قدم کی پیروی کر دکھائی اور جو کچھ انہوں نے ایک مدت دراز سے انجیل کی نسبت ایک خیال قائم کیا ہوا