براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 310
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۰۸ براہین احمدیہ حصہ سوم کہ جس کسی شے کے کسی خاصہ کے وجود میں شک ہو تو اس کو اس قدر آزمایا جاوے جس سے دلی اطمینان پیدا ہو جائے ۔ اور جو شخص بعد آزمائش ایک خاصہ کے کہ جو ایک شے میں پایا جاتا ہے پھر بھی یہ وہم کرے کہ کیوں یہ خاصہ اس شے میں پایا جاتا ہے تو وہ شخص حقیقت میں پاگل اور سودائی ہے ۔ مثلاً جب ایک شخص نے اگر اُس کے ساتھ ایک ایسا رفیق ملایا گیا کہ جو اس کو لغزشوں سے بچاوے اور پاؤں پھسلنے کی جگہ سے سنجل رکھے تو کیا اس کے لئے اچھا ہو یا برا ہوا اور کیا اس رفیق نے اس کو اپنے کمال مطلوب تک پہنچایا یا کمال مطلوب سے روک دیا۔ یہ کیسی کور باطنی ہے کہ معین اور مددگار کو مخالف اور مزاحم سمجھا جاوے اور مکمل اور تم کو رہزن اور نقصان رساں قرار دیا جائے ۔ آپ لوگ جب اپنے حواس میں قائم ہو کر اور طالب حق بن کر اس مسئلہ میں غور کریں گے تو آپ پر فی الفور واضح ہو جائے گا کہ خدا نے جو عقل کا رفیق الہام کو ٹھہرا دیا ہے یہ عقل کے حق میں کوئی ضرر کی بات نہیں کی بلکہ اس کو سرگردان اور حیران پا کر حق شناسی کے لئے ایک یقینی آلہ عطا کیا ہے جس کی نشاندہی سے عقل کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ صد با کج اور نار است راہوں میں بھٹکتے پھرنے سے بچ جاتی ہے اور سر گشتہ اور آوارہ نہیں ہوتی اور ہر طرف حیرانی سے بھٹکتی نہیں پھرتی بلکہ اصل مقصود کی خاص راہ کو پالیتی ہے اور جو ٹھیک ٹھیک گو ہر مراد کی جگہ ہے اس کو دیکھ لیتی ہے اور بیہودہ جانکنی سے امن میں رہتی ہے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی سچا مخبر کسی گمشدہ شخص کا بدرستی تمام پتہ لگا دیوے کہ وہ فلاں طرف گیا ہے اور فلاں شہر اور فلاں محلہ اور فلاں جگہ میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ ایسے مخبر پر جو کسی گمشدہ کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا دیتا ہے اور اس تک پہنچنے کا سہل اور آسان راستہ بتلا دیتا ہے کوئی با عقل آدمی بی اعتراض نہیں کرتا کہ وہ ہماری کارروائی کا حارج ہوا ہے بلکہ اس کے بغایت درجہ ممنون اور شکر گزار ہوتے ہیں کہ ہم بے خبر تھے اس نے خبر دی اور ہم ہر طرف بھٹکتے پھرتے تھے اس نے خاص جگہ بتلا دی۔ اور ہم نری انکلیں دوڑاتے تھے اس نے یقین کا دروازہ ہم پر کھول دیا۔ ایسا ہی وہ لوگ جن کو خدا نے عقل سلیم بخشی ہے حقیقی الہام کے مرہوم منت ۲۷۸) اسی سوال کے نیچے فرماتے ہیں۔ اب تو وہ متکلم دنیوی امور میں مستغرق ہے ورنہ یہ ثابت کر