براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 299

روحانی خزائن جلد 1 ۲۹۷ براہین احمدیہ حصہ سوم ، حاشیه نمبر ا ا انشا پردازوں کو اپنے مددگار بنالے۔ یہ مثال متذکرہ بالا کوئی خیالی اور فرضی بات (۲۶۷ حقانی صداقتوں کی ترقی ہمیشہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے کہ جو الہام کے پابند ہوئے ہیں اور وحدانیت الہی کے اسرار دنیا میں پھیلانے والے وہی برگزیدہ لوگ ہیں کہ جو خدا کی کلام پر ایمان لائے مگر پھر عمداً اس واقعہ معلومہ کے برخلاف بیان کیا ہے اور تعصب یہ کہ اپنی بات کو خواہ نخواہ سرسبز کرنے کے لئے اس بدیہی صداقت کو چھپایا ہے کہ الہیات میں عقل مجرد مرتبہ یقین کامل تک نہیں کچھ اعتماد نہ رہا کیونکہ اپنی آنکھ سے تو انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا اور کسی قسم کی برکت مشاہدہ نہ کی۔ غرض جس کا ایمان عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کی طرح صرف قصوں اور کہانیوں کے سہارے پر موجود ہو۔ اس کے ایمان کا کچھ بھی ٹھکانا نہیں اور آخر اس کیلئے وہی ضلالت در پیش ہے جس ضلالت میں یہ بدنصیب قوم عیسائیوں وغیرہ کی مبتلا ہوگئی جن کی کل جائداد فقط وہی دیر بینہ کہانیاں اور ہزاروں برسوں کے خستہ شکستہ قصے ہیں لیکن ایسے شخصوں کے ایمان کا کچھ بھی قیام نہیں اور اُن کو کسی طرح پتہ نہیں مل سکتا کہ وہ پورا نا خدا جو پہلے انکے بزرگوں کے ساتھ تھا اب کہاں اور کدھر ہے اور موجود ہے یا نہیں۔ سو بھائیو اگر تم خدا کے خواہاں ہو، اگر تم یقین کے طالب ہو، اگر تمہارے دل میں دنیا کی محبت نہیں تو اٹھو اور سجدات شکر کرو کہ خدا تمہاری جماعت کو فراموش نہیں کرتا ۔ وہ تمہیں ضائع کرنا نہیں چاہتا تا تم اس کے حضور میں شکر گزار ٹھہرو ۔ خدا کے نشانوں کو تحقیر کی نظر سے مت دیکھو کہ یہ تمہارے لئے خطرناک ہے خدا کی نعمتوں کو ر مت کرو کہ سی اس کے شخط کا موجب ہے دنیا سے دل مت لگاؤ کہ یہی سب نخوتوں اور حسدوں اور خود پسندیوں کا اصل ہے۔ خدا کی آیات سے مونہہ مت پھیرو کہ اس کا انجام اچھا نہیں وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَاتْلُ عَلَيْهِمْ بَنَا الَّذِي أَتَيْنَهُ أَيْتَنَا احْ بقیه حاشیه در حاشیه بقیه حاشیه در حاشیه نمبر مختصر پیش تو گفتم غم دل ترسیدم که دل آزرده شوی ور نه بخن بسیار است اب ہم اس تقریر و اس دعا پر ختم کرتے ہیں ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَابِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِيْنَ مِنه اور کم تو جہی کی وجہ سے اس تصور باطل میں گرفتار ہیں کہ گو یا انجیلی تعلیم قرآنی تعلیم سے کامل اور بہتر (۲۶۸ ہے۔ چنانچہ ابھی ایک پادری صاحب نے ۳ مارچ ۱۸۸۲ء کے پرچہ نور افشاں میں یہ سوال پیش کر دیا ہے کہ حیات ابدی کی نسبت کتاب مقدس میں کیا نہ تھا کہ قرآن یا صاحب قرآن لائے۔ اور قرآن کن کن امروں اور تعلیمات میں انجیل پر فوقیت رکھتا ہے۔ تا یہ ثابت ہو کہ انجیل کے اترنے کے بعد قرآن کے نازل ہونے کی بھی ضرورت تھی ۔ ایسا ہی ایک عربی رسالہ موسوم بہ الاعراف: ۱۷۶ ۳ الاعراف: ۹۰