براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 298

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۹۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۶۶ موت کی نظیر بنانے پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتا اگرچہ دنیا کے صدہا زبان دانوں اور اشیه نمبر ا ا بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ا ه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ قومی عقلیہ کو بالکل بیکار چھوڑا جاتا ہے اور گویا الہام اور عقل ایک دوسرے کی نقیض اور ضد ہیں کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ یہ بر ہمو لوگوں کی کمال درجہ کی بد نمی اور بداندیشی اور ہٹ دھرمی ہے اور اس عجیب و ہم کی عجیب طرح کی ترکیب ہے جس کے اجزاء میں ۔ ں سے کچھ تو جھوٹ اور کچھ تعصب اور کچھ جہالت ہے۔ جھوٹ یہ کہ باوصف اس بات کے کہ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ امت مرحومہ پر بہت ہی مہربان ہے اور قدیم سے وہ نہیں چاہتا ہے کہ اس امت کو اپنی نورانی برکتوں اور آسمانی نوروں کے ساتھ غیر قوموں پر بدیہی ترجیح رہے تا دشمن یہ نہ کہے کہ ہم میں اور تم میں کون سا فرق ہے۔ تا معاند کہ خدا اس کا روسیہ کرے اپنے خبث باطن اور عادت دروغی سے یہ کہنا نہ پاوے کہ آنحضرت سید العین اور اس کی پاک اور طبیب آل اور اس کی نورانی جماعت نے آسمانی برکتوں کو نہیں دکھلایا۔ تم فکر کر واورسوچو۔ کیا تمہارے لئے یہ بہتر تھا کہ تم آسمانی نوروں سے ایسے ہی بے نصیب رہ کر گزشتہ قصوں کے سہارے سے زندگی بسر کرتے جیسے تمہارے مخالف اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یا تمہارے لئے یہ بہتر اور شکر کی جگہ ہے کہ خدا ہمیشہ تم میں سے اور تمہاری قوم میں سے بعض افراد کو اپنے نوروں میں سے حصہ وافر دے کر تم سب کے ایمان کو بمرتبہ کمال پہنچاوے اور مخالفوں کو ملزم اور ذلیل کرے۔ غیر قوموں کی طرف دیکھو کہ وہ کیونکر ڈوبی اور برباد ہوئی۔ یہی باعث تھا کہ انجیل وغیرہ گزشتہ کہتا میں بعلت فساد اور تحریف کے اپنی ذات اور صفات میں کسی معجزہ اور تاثیر روحانی کا مظہر نہ ہوسکیں اور صرف بطور کتھا اور قصہ کے پرانے منجزات پر مدار رہالیکن کیونکر ممکن تھا کہ ایسے لوگ جنہوں نے حضرت موسیٰ کے عصا کو بچشم خود سانپ بنتے نہیں دیکھا اور نہ حضرت عیسی کے ہاتھ سے کوئی مردہ قبر سے اٹھنا مشاہدہ کیا وہ صرف بے اصل قصوں کے سننے سے یقین کامل تک پہنچ جاتے۔ ناچار یہودی و عیسائی رو بدنیا ہو گئے اور عالم آخرت پر ان کو ب العالمین بنا رکھا ہے۔ مگر پھر بھی ان حضرات کو خدائے تعالیٰ سے ایسی لا پروائی اور بے غرضی ہے کہ کچھ بھی مواخذہ کے روز سے نہیں ڈرتے اور کچھ ایسے سوئے ہوئے ہیں کہ صد ہا علماء فضلاء جگا جگا کر تھک گئے ۔ لیکن ان کی آنکھ نہیں کھلتی اور ہمیشہ دنیا پرستی