براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 297

روحانی خزائن جلد 1 ۲۹۵ براہین احمدیہ حصہ سوم دی جاوے گی تو پھر بھی باوجود سخت عناد اور اندیشہ رسوائی اور خوف کمال کہ جو ترقی فی المعقولات ہے۔ ناحق ضائع جاتا ہے۔ اور معرفت کاملہ کے حاصل کرنے سے انسان (۲۶۶) بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ رک جاتا ہے اور جس حیات ابدی اور سعادت دائگی کے حصول کی انسان کو ضرورت ہے اس کے حصول سے الہامی کتابیں سد راہ ہو جاتی ہیں۔ اما الجواب واضح ہو کہ ایسا سمجھنا کہ گویا خدا کی سچی کتاب پر عمل کرنے سے کہ خضر رسول نہیں تھا ورنہ وہ اپنی امت میں ہوتا ۔ نہ جنگلوں اور دریاؤں کے کنارہ پر اور خدا نے بھی اس کو رسول یا نبی کر کے نہیں پکارا مگر جو اس کو اطلاع دی جاتی تھی اس کا نام یقینی اور قطعی رکھا ہے کیونکہ قرآن کے عرف میں علم اسی چیز کا نام ہے کہ جو قطعی اور یقینی ہو۔ اور خود ظاہر ہے کہ اگر خضر کے پاس صرف ظلنیات کا ذخیرہ ہوتا تو اس کے لئے کب جائز تھا کہ امر مظنون پر بھروسا کر کے ان امور کو کرتا کہ جو صریح خلاف شرع اور منکر بلکہ با تفاق تمام پیغمبروں کے کبائر میں داخل تھے اور پھر اس صورت میں حضرت موسیٰ کا اس کے پاس آنا بھی محض بے فائدہ تھا۔ پس جبکہ بہر صورت ثابت ہے کہ خضر کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم یقینی اور قطعی دیا گیا تھا۔ تو پھر کیوں کوئی شخص مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لا کر اس بات سے منکر رہے کہ کوئی فرد بشر امت محمدیہ میں سے باطنی کمالات میں خضر کی مانند نہیں ہو سکتا ۔ بلا شبہ ہو سکتا ہے بلکہ خدائے کی قیوم اس بات پر قادر ہے کہ امت مرحومہ محمد یہ کے افراد خاصہ کو اس سے بھی بہتر و زیادہ تر باطنی نعمتیں عطا فرمادے ۲۶۶ الَم تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - کیا اس خداوند کریم نے آپ ہی اس امت کو یہ دعا تعلیم نہیں فرمائی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کیا اس نے آپ ہی نہیں فرمایا ۔ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ " تم یقینا سمجھو کہ خداوند کریم اس بلکہ قبول کرنا تو درکنار ہمارے مخالفوں میں اس قدر شرم بھی باقی نہیں رہی کہ قرآن شریف کی (۲۲۶ بدیہی عظمتوں اور صداقتوں کو دیکھ کر اور اپنے مذہب کے فسادوں اور ضلالتوں پر مطلع ہو کر بد گوئی اور بد زبانی سے باز رہیں اور باوجود چور ہونے کے پھر چترائی نہ دکھلا دیں ۔ مثلاً خیال کرنا چاہئے کہ عیسائیوں کے عقائد کا باطل ہونا کس قدر بد یہی ہے کہ خواہ نخواہ منہ زوری سے ایک عاجز مخلوق کو ۲۶۷ الفاتحة : ٦، الواقعة : ۴۰، ۴۱