براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 286
۲۸۴ روحانی خزائن جلد ۱ اُس کی طرف متوجہ ہونا تضیع اوقات ہے۔ ایسا ہی ایک دوسری وجہ حالتوں سے کہ جو ہزار ہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے ۔ لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانہ وقوع ہریک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا۔ بلکہ حکمت الہیہ بعض کے لئے زمانہ امن و آسائش پہلے حصہ عمر میں میسر کر دیتی ہے اور زمانہ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخر کا رنصرت الہی شامل ہو جاتی ہے اور بعض میں یہ دونوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں اور بعض میں کامل درجہ پر ظہور و بروز پکڑتی ہیں اور اس بارے میں اور یہ اُسی کی سزا ہے کہ تم ہندو اور دین اسلام سے خارج ہو ۔ شاید اُن کو گراں ہی گزرا ہوگا ۔ مگر بات کچی تھی جس کی سچائی پانچویں یا چھٹے محترم میں ظہور میں آگئی اپنے پنجم با ششم محرم الحرام میں مبلغ پچاس روپیہ جن کو جونا گڑھ سے شیخ محمد بہاؤ الدین صاحب مدار المہام ریاست نے کتاب کے لئے بھیجا تھا۔ کئی لوگوں اور ایک آریہ کے رو بر و بچ گئے ۔ والحمد للہ علی ذالک۔ اسی طرح ایک مرتبہ خدا نے ہم کو خواب میں ایک راجہ کے مرجانے کی خبر دی ۔ اور وہ خبر ہم نے ایک ہند و صاحب کو کہ جواب پلیڈری کا کام کرتے ہیں بتلائی ۔ جب وہ خبر اسی دن پوری ہوئی تو وہ ہند و صاحب بہت ہی متعجب ہوئے کہ ایسا صاف اور کھلا ہوا علم غیب کا کیونکر معلوم ہو گیا ۔ پھر ایک مرتبہ جب انہیں وکیل صاحب نے اپنی وکالت کے لئے امتحان دیا تو اسی ضلع میں سے ان کے ساتھ اسی سال میں بہت سے اور لوگوں نے بھی امتحان دیا ۔ اس وقت بھی مجھ کو ایک خواب آئی اور میں نے اس وکیل صاحب کو اور شاید میں یا چالیس اور ہندوؤں کو جن میں سے کوئی تحصیلدار کوئی سرشتہ دار کوئی محرر ہے بتلایا کہ ان سب میں سے صرف اس شخص مقدم الذکر کا پاس ہوگا اور دوسرے سب امیدوار فیل ہو جائیں گے۔ چنانچہ بالآخر ایسا ہی ہوا ۔ اور ۱۸۶۸ء میں اس وکیل صاحب کے خط سے اس جگہ قادیان میں یہ خبر ہم کومل گئی ۔ والحمد للہ علی ذالک۔ بقیه حاشیه در حاشیه اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جس طرح ہمارے مخالفین کی خوا ہیں دنیا کے امور میں اکثر بے اصل اور دروغ بے فروغ نکلتی ہیں۔ ویسا ہی دینیات میں اُن کا مغشوش اور بے سروپا ہونا ہمیشہ ثابت ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں میں جس کو آٹھ یا نو برس کا عرصہ ۲۵۶ ۲۵۶