براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 285
روحانی خزائن جلد 1 ۲۸۳ براہین احمدیہ حصہ سوم خدا کا خوف نہیں اور محض خبث باطنی سے مفسدوں کی طرح بیہودہ بیہودہ گفتگو کرتا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا ہے۔ ۲۵۶ دولت سے دل نہ لگا نا ، دولت سے مغرور نہ ہونا، دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم ۲۵۵ اور خود اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم و تعدی نہ بنانا ۔ یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے۔ اور اسی وقت یہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت اور اقتدار دونوں میسر ہوں ۔ پس چونکه بجز زمانه مصیبت واد بار و زمانه دولت و اقتدار یہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے حکمت کاملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی اور کامل مسلمان کو بہت ہی کم اتفاق ہوتا ہے کہ اس کی خواب بے اصل اور اضغاث احلام میں داخل ہو ۔ کیونکہ وہ پاک دل اور پاک مذہب ہے اور حضرت احدیت سے سچا رابطہ رکھتا ہے بر خلاف منکر اسلام کے کہ جو باعث نا پاک دلی اور ناراستی مذہب کے گویا ایک نجاست میں پڑا ہوا ہے اس کو بہت ہی کم اتفاق ہوتا ہے کہ اس کی کوئی خواب بچی ہو۔ پھر تجربہ سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اگر کسی منکر اسلام کی شاذ ونا در کوئی بعض خواب کبھی بچی بھی ہو تو اس میں یہ شرط ہے کہ وہ منکر کوئی معاند پادری یا پنڈت نہ ہو بلکہ کوئی سیدھا سادھا ہندو یا غریب عیسائی ہو ۔ جس کو اپنے مذہب پر کچھ ایسا اعتقاد نہ ہو۔ نہ اسلام سے کچھ بغض و کینہ ہو۔ اور پھر یہ بھی تجارب کثیرہ سے ثابت ہوا ہے کہ جو کسی غریب ہندو یا عیسائی کی کبھی کسی حالت میں خواب کچی ہو جائے تو وہ خطا اور غلطی کی آمیزش سے بکلی پاک اور صاف نہیں ہوتی۔ بلکہ کچھ نہ کچھ کمی بیشی اور پراگندگی اور افراط تفریط ضرور اس میں ہوتا ہے۔ ہم کو یاد ہے کہ محرم ۱۲۹۹ ہجری کی پہلی یا دوسری تاریخ میں ہم کو خواب میں یہ دکھائی دیا کہ کسی صاحب نے مدد کتاب کے لئے پچاس روپیہ روانہ کئے ہیں۔ اسی رات ایک آریہ صاحب نے بھی ہمارے لئے خواب دیکھی کہ کسی نے مدد کتاب کے لئے ہزار روپیہ روانہ کیا ہے۔ اور جب انہوں نے خواب بیان کی تو ہم نے اسی وقت ان کو اپنی خواب بھی سنا دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری خواب میں انہیں حصے جھوٹ مل گیا ہے۔