براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 281

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۷۹ براہین احمدیہ ہو جائے ۔ مگر ایسے سوال کے پیش کرنے میں یہ شرط بھی بخوبی یاد رہے کہ جو صاحب (۲۵۲) اور انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ستائے جائیں ۔ سوخدائے تعالی ﴿۲۵۲) } 11 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا ان پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر، ان کا صدق قدم ، ان کی مردی ، ان کی استقامت ، ان کی وفاداری، ان کی فتوت شعاری لوگوں پر ظاہر کر کے الاستقامة فوق الكرامة كا مصداق ان کو ٹھہرا دے۔ کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہوسکتا اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلے کے معلوم نہیں ہو سکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل و مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔ چاہتا ہے۔ رات کے وقت رویا میں کل حقیقت مجھ پر کھول دی۔ اور ظاہر کیا کہ تقدیر الہی میں یوں مقدرہے کہ اس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ماتحت میں پھر واپس آئے گی اور پھر اس عدالت ماتحت میں نصف قید اس کی تخفیف ہو جائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور جو اس کا دوسرا رفیق ہے وہ پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا اور بری وہ بھی نہیں ہوگا۔ پس میں نے اس خواب سے بیدار ہوکر اپنے خداوند کریم کا شکر کیا جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا اور اسی وقت میں نے یہ رویا ایک جماعت کثیر کو نا دیا اور اس ہند و صاحب کو بھی اسی دن خبر کر دی۔ اب مولوی صاحب !! آپ خود یہاں آکر اور خود اس جگہ پہنچ کر جس طرح سے جی چاہے اس ہندو صاحب سے جو اس جگہ قادیان میں موجود ہے اور نیز دوسرے لوگوں سے دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ خبر جو میں نے بیان کی ہے یہ ٹھیک درست ہے یا اس میں کچھ کمی بیشی ہے۔ اور ایسے معاملات میں مخالفین مذہب کی گواہی خاص کر دیا نند پنڈت کے تابعین کی گواہی جس قدر قابل اعتبار ہے آپ جانتے ہی ہوں گے۔ اب ہم ایک تیسری رویا بھی آپ کی خدمت میں نذر کرتے ہیں۔ سردار محمد حیات خان کا کبھی آپ نے نام سنا ہی ہوگا کہ جو گورنمنٹ کے حکم سے ایک (۲۵۲) عرصہ دراز تک معطل رہے ۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرا ہو گا ۔ یا شاید اس سے زیادہ کچھ عرصہ گزر گیا ہو گا کہ جب طرح طرح کی مصیبتیں اور مشکلیں اور صعوبتیں اس معطلی کی