براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 263
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۶۱ براہین احمدیہ حصہ سوم نمبر دقیق صداقت جس کو حکمائے سابقین نے مدت دراز کی محنت اور جانفشانی سے نکالا ہو معرض مقابلہ میں لاوے۔ یا جس قدر مفاسد باطنی اور امراض روحانی ہیں جن میں اکثر مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمَ ، وَمَن کہ یہ لوگ عذاب سے بچ جائیں گے ان کے لئے ایک دردناک عذاب ۲۳۷ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنْعَ مَسْجِدَ اللہ ان مقرر ہے اور اس سے اور کون ظالم تر ہے کہ جو خدا کی مسجدوں کو اس بات يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا سے رو کے کہ ان میں ذکر الہی کیا جائے اور مسجدوں کے خراب اور منہدم أُولَيكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا کرنے میں کوشش کرے۔ یہ عیسائیوں کی بدچلنی اور مفسدانہ حرکت کا حال خَابِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْى وَلَهُمُ بتلایا ہے جنہوں نے بیت المقدس کا کچھ پاس نہ کیا اور اسے متکبرانہ جوش فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ : وَلَقَدْ میں آکر منہدم کیا اور بعد اس آیت کے فرمایا کہ جن عیسائیوں نے ایسی كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ آن شوخی کی ان کو دنیا میں رسوائی در پیش ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔ ہم الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ ۔ ۳ نے زبور میں ذکر کے بعد لکھا ہے کہ جو نیک لوگ ہیں وہی زمین کے وارث قُلِ اللهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ ہوں گے یعنی ارض شام کے (زبور: ۳۷) کہہ اے بار خدایا اے مالک الملک تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ تو جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے تو وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ " جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ ہر یک خیر کہ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ٤٠ جس کا انسان طالب ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ تو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ چاہتا ہے تو یکدفعہ ایک بیہوشی اور ر بودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے اور ایسا اس بے خودی اور ربودگی اور بیہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔ غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو نا گہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزوں اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتی ہے اور یہ غوطہ ر بودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے ۔ یہی حالت ہے جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے۔ کیونکہ جب بار بار دعا کرنے کے وقت خداوند تعالی اس حالت غوطہ اور ر بودگی کو اپنے بندہ پر وارد کر کے اس کی ہر یک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے۔ اور ہر یک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا کھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ال عمران: ۱۸۹ ۲ البقرة : ۱۱۵ ۳ الانبياء : ۱۰۶ ال عمران: ۲۷