براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 262

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۶۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۶ دلائل اور براہین اپنی قوت عقلیہ سے پیدا کر کے دکھلاوے یا ایسا ہی کوئی نہایت مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اپنے رسول مقبول کے خلیفے کرے گا انہیں کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے اور انکے دین کو کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی جو ان کیلئے اس نے پسند کر لیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جمادے گا اور مستحکم اور قائم کر دے گا اور بعد اسکے کہ ایماندار خوف کی حالت میں ہوں گے یعنی بعد اس وقت کے الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ کہ جب بباعث وفات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ خوف دامنگیر ہوگا حاشیه نمبر الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ شاید اب دین تباہ نہ ہو جائے۔ تو اس خوف اور اندیشہ کی حالت میں خدائے تعالیٰ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ خلافت حقہ کو قائم کر کے مسلمانوں کو اندیشہ ابتری دین سے بے غم اور امین کی حالت دِينَهُمُ الَّذِی ارتضی میں کر دے گا وہ خالصاً میری پرستش کریں گے اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ گے۔ یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الہیہ جاری خَوْفِهِمْ آمَنَّا ہے اسکے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور پر ان آیات میں خلافت روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر یک خوف کی حالت يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ میں کہ جب محبت الہیہ دلوں سے اٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں بِي شَيْئًا وَذَتْ طَائِفَةٌ اور لوگ رو بہ دنیا ہو جائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہو تو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَو روحانی خلیفوں کو پیدا کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ پر روحانی طور پر نصرت اور فتح دین يُضِلُّوْنَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ کی ظاہر ہو۔ اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہو۔ تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہو جانے کے اندیشہ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا سے امن کی حالت میں آجائیں۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ ایک گروہ نے عیسائیوں اور يَشْعُرُونَ ۔ لَ وَيُحِبُّونَ أَن یہودیوں میں سے یہ چاہا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کریں اور وہ تم کو تو کیا گمراہ کریں يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا گے خود اپنے ہی نفسوں کو گمراہ کر رہے ہیں پر اپنی غلطی پر انہیں شعور نہیں ۔ اور چاہتے ہیں فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَة کہ ان کاموں کے ساتھ تعریف کئے جائیں جن کو وہ کرتے نہیں سو تو یہ گمان مت کر قطع اور یقین کی طرف راہ نہیں۔ وہ معرفت کامل سے سخت بے نصیب ہیں۔ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِه۔ اللَّهُمَّ اَصْلِحْ اُمَّةً مُحَمَّد ۔ اور یہ وہم کہ اگر الہام اولیا ء شریعت حقہ محمدیہ سے مخالف ہو تو پھر کیا کریں۔ یہ ایسا ہی قول ہے جیسا کوئی کہے کہ اگر ایک نبی کا الہام دوسرے نبی کے الہام سے مخالف ہو تو پھر کیا کریں۔ پس ایسے وساوس کا یہ جواب ہے کہ ایسا کامل النور الہام جس کی ہم نے اوپر تعریف لکھی ہے۔ ممکن نہیں کہ شریعت حقہ محمدیہ سے مخالف ہو اور اگر کوئی کم فہم کچھ مخالفت سمجھے تو وہ اس کی سمجھ کا قصور ہے۔ صورت دوم الہام کی جس کا میں باعتبار کثرت عجائبات کے کامل الہام نام رکھتا ہوں ۔ یہ ہے کہ جب خدائے تعالی بندہ کو کسی امرغیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا النور : ۲۵۶ ال عمران: ۷۰