براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 247

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۴۵ براہین احمدیہ حصہ سوم قدرتوں کے تابع ہے۔ کیا کوئی ایسا انسان بھی ہے جس نے اپنے ذاتی تجربہ اور (۲۲) مشاہدہ سے کسی جزئی میں اس سچائی کو دیکھ نہیں لیا ؟ پس جبکہ یہ صداقت اس قدر قوی اور مستحکم اور شائع اور متعارف ہے کہ کسی درجہ کی عقل اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں أَفَتَاتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ سو کیا تم دیدہ و دانستہ جادو کے بیچ میں آتے ہو۔ پیغمبر نے کہا کہ میرا خدا ۲۲۱ قُل رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ ہر بات کو جانتا ہے خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں وہ اپنی ذات میں وَالْأَرْضِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سمیع اور علیم ہے جس سے کوئی بات چھپ نہیں سکتی۔ مگر کا فر پیغمبر کی کب بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ احْلَاءِ بَلِ سنتے ہیں وہ تو قرآن کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ پراگندہ خواہیں ہیں بلکہ افْتَرَبهُ بَلْ هُوَ شَاعِرُ * فَلْيَاتِنَا یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے آپ بنالیا ہے ۔ بلکہ ان کا یہ بھی مقولہ ہے کہ بِايَةٍ كَمَا أرسل الأولُونَ لا یہ شاعر ہے۔ بھلا اگر سچا ہے تو ہمارے روبرو کوئی نشان پیش کرے جیسے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَاوِرِیكُمْ پہلے نبی بھیجے گئے تھے۔ انسان کی فطرت میں جلدی ہے عنقریب میں تم ايتي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ۔ سَنُرِيهِمْ کو اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ سو تم مجھ سے جلدی تو مت کرو۔ عنقریب ہم ايتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ ان کو معمورہ عالم کے کناروں تک نشان دکھلائیں گے اور خود انہیں میں حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ٣٠ ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ حق ان پر کھل جائے گا۔ کیا أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَ هُمُ یہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے نہیں بلکہ بات تو یہ ہے کہ خدا نے ان کی بِالْحَقِّ وَاكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ ٤٠ طرف حق بھیجا اور وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں۔ تو پھر اس سے انحراف کرنا صریح حکم ہے۔ کیا مولوی صاحب کو معلوم نہیں کہ علم شریعت میں اسی طرح صد با عرفی الفاظ ہیں جن کے مفہوم کو لغوی معنوں میں محدود کرنا ایک ضلالت ہے خود وحی کے لفظ کو دیکھئے کہ اس کے وہ معنے جن کی رو سے خدا کی کتابیں وحی رسالت کہلاتی ہیں کہاں لغت سے ثابت ہوتے ہیں اور کسی کتاب لغت میں وہ کیفیت نزول وحی لکھی ہے جس کیفیت سے خدا اپنے مرسلوں سے کلام کرتا ہے اور اُن پر اپنے احکام نازل کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے لفظ میں نظر کیجئے کہ اس کے لغوی معنے تو صرف یہی ہیں کہ جو کسی کو کام سونپایا ترک مقابلہ اور فروگذاشت اور اطاعت اس میں یہ مضمون کہاں ماخوذ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی کہنا۔ پس اگر ہر یک لفظ کا لغت ہی سے فیصلہ کرنا چاہئے تو اس حالت میں اسلام ہر سے فیصلہ تو بھی الہام کی طرح مولوی صاحب کے نزدیک صرف صلح یا کام سونپنے کا نام ہوگا اور دوسرے صل ا الانبياء: ۴ تا ۶ الانبياء: ۳۸ حم السجده: ۵۴ المؤمنون: اے