براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۴۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۲۰۵ ۲۲۰) اپنے بیچ اور نا چیز علم کو برابر کر سکے ۔ کیا اس صداقت کے ثابت ہونے میں ابھی کچھ کسر رہ گئی ہے کہ کلام کی تمام ظاہری باطنی شوکت و عظمت علمی طاقتوں اور عملی عَلَى أَن يَأْتُوا بمثل هذا اس بات پر اتفاق کریں کہ قرآن جیسی کوئی اور کتاب بنالا وہیں تو وہ الْقُرْآنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ کبھی بنا نہیں سکیں گے۔ اگر چہ بعض بعض کے مددگار بھی ہوں ۔ اور بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ! وان اگر تم اس کلام کے بارے میں کہ جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا نَزَلْنَا كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّانَ الْنا عَلی سے کسی نوع کے شک میں ہو یعنی اگر تمہارے نزدیک اس نے وہ عَبْدِنَا فَأْتُوْابِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ کلام آپ بنالیا ہے یا جنات سے سیکھا ہے یا جادو کی قسم ہے یا شعر وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ ہے یا کسی اور قسم کا شک ہے تو تم بھی اگر بچے ہو تو بقدر ایک سورۃ اس اللهِ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِيْنَ فَإِن لَّمْ کی مثل بنا کر دکھلاؤ اور اپنے دوسرے مددگاروں یا معبودوں سے مدد ۲۲۱ بقيه حاشيا تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ | التِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ؟ لے لو اور اگر نہ بن سکواور یاد رکھ کہ ہرگز نہیں سکو گے تو اس آگ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ ۔ وَاَسَرُّوا سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کیلئے طیار کی النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا گئی ہے۔ اور کا فربا ہم پوشیدہ طور پر یہ باتیں کرتے ہیں کہ یہ جو هل هذا إلا بَشَرٌ مِثْلُكُم پیغمبری کا دعوی کرتا ہے اس میں کیا زیادتی ہے ایک تم سا آدمی ہے وہ بہا عنہا راغوی معنوں کے اطلاق نہیں پاتا ۔ بلکہ اطلاق اس کا باعتبار عرف علماء اسلام ہے۔ کیونکہ قدیم سے علماء کی ایسی ہی عادت جاری ہو گئی ہے کہ وہ ہمیشہ وحی کو خواہ وحی رسالت ہو یا کسی دوسرے مومن پر وحی اعلام نازل ہو۔ الہام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس عرف کو وہی شخص نہیں جانتا ہوگا جس کو حق کے قبول کرنے سے کوئی خاص غرض سد راہ ہے۔ ورنہ قرآن شریف کی صد با تفسیروں میں سے اور کئی ہزار کتب دین میں سے کسی ایک تالیف کو بھی کوئی پیش نہیں کر سکتا جس میں اس اطلاق سے انکار کیا گیا ہو بلکہ جابجا مفسر وں نے وحی کے لفظ کو الہام ہی سے تعبیر کیا ہے۔ کئی احادیث میں بھی یہی معنے ملتے ہیں جس سے مولوی صاحب بے خبر نہیں ہیں ۔ پھر نہ معلوم کہ مولوی صاحب نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ لفظ الہام کے کتب دین میں وہی معنے کرنے چاہئیں کہ جو کتب لغت میں مندرج ہیں۔ جب کہ سواد اعظم علماء کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو استعمال کیا ہے۔ بنی اسرائیل: ۲۸۹ البقرة: ۲۵،۲۴