براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 243

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۴۱ براہین احمدیہ حصہ سوم اور قدرت میں فرق ہے۔ جس حالت میں افرا د انسانی نوع واحد میں داخل ہو کر پھر بھی بوجہ تفاوت علم اور عقل اور تجربہ اور مشق کے متفاوت البیان پائی جاتی ہیں اور ۲۸ 13 بے عزت اور دون ہمت اور دنی النفس اور نا کام اور نا مراد ہی نظر آتے ہیں اور امور غیبیہ کو اپنی حسب مراد ہر گز نہیں کر سکتے بلکہ ان کے حالات پر خدا کے قہر کی علامات نمودار ہوتی ہیں اور خدا کی طرف سے کوئی برکت اور عزت اور نصرت ان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔ مگر انبیاء اور اولیاء صرف نجومیوں کی طرح امور غیبیہ کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ خدا کے کامل فضل اور بزرگ رحمت سے کہ جو ہر دم ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ ایسی اعلی پیشین گوئیاں بتلاتی ہیں جن میں انوار قبولیت اور عزت کے آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جو عزت اور نصرت کی بشارت پر مشتمل ہوتے ہیں نہ نحوست اور نہ نکبت پر قرآن شریف کی پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو ۔ تو معلوم ہو کہ وہ نجومیوں وغیرہ درماندہ لوگوں کی طرح ہر گز نہیں ۔ (۲۱۸) بلکہ ان میں صریح ایک اقتدار اور جلال جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے اور اس میں تمام پیشین گوئیوں کا یہی طریق اور طرز ہے کہ اپنی عزت اور دشمن کی ذلت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار ان دنوں مولوی ابو عبد اللہ صاحب قصوری کا ایک رسالہ جس کے خاتمہ میں انہوں نے الہام اور وحی کے بارے میں کچھ اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ اتفاقاً میری نظر سے گزرا۔ اگر چہ صحت اور صفائی سے اچھی طرح نہیں کھلتا کہ مولوی صاحب ممدوح کی اس تحریر کا کیا منشاء ہے مگر جس قدر لوگوں (۲۱۸) نے میرے پاس بیان کیا ہے اور جو کچھ میں نے اس رسالہ کو پڑھ کر معلوم کیا ہے وہ شکی طور پر اس و ہم میں ڈالتا ہے کہ گویا مولوی صاحب کو اولیاء اللہ کے الہام سے انکار ہے۔ واللہ اعلم بما في قلبهم ۔ بہر حال جو کچھ میں نے ان کے رسالہ سے سمجھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اوّل حضرت موصوف نے ایک لفظی بحث شروع کر کے الہام کی بابت لکھا ہے کہ الہام کے معنے لغت میں یہ ہیں۔ الہام چیزے در دل انداختن و آنچه خدا در دل انداز د۔ اور پھر جھٹ پٹ اس پر یہ رائے ظاہر کر دی ہے کہ جب کہ الہام صرف دل کے خیال کا نام ہے خواہ نیک ہو خواہ بد ۔ تو پھر اس سے کسی ولی یا صالح یا ایماندار کی خصوصیت نہیں کیونکہ سب کسی کو انواع و اقسام کے خیالات دل میں گزرا کرتے ہیں۔ اور دنیا میں کون ہے