براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 236

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۳۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۲ کے ثبوت کو مستلزم ہے کہ جو کلام خدا کا کلام ہو اس کا انسانی کلام سے اپنے ظاہری کا امتحان کرلے تا تکرار تجربہ سے اس کو اس بات پر یقین ہو جائے کہ قوت شامہ کا وجود بھی واقعی اور حقیقی ہے اور ایسے لوگ فی الحقیقت پائے جاتے ہیں کہ جو معطر اور غیر معطر میں فرق کر لیتے ہیں۔ ایسا ہی تکرار تجربہ سے الہام کا وجود طالب حق پر ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ جب صاحب الہام پر وہ اُمور غیبیہ اور دقائق مخفیہ منکشف ہوتے ہیں کہ جو مجرد عقل سے منکشف نہیں ہو سکتے اور کتاب الہامی ان عجائبات پر مشتمل ہوتی ہے جن پر کوئی دوسری کتاب مشتمل نہیں ہوتی تو طالب حق اسی دلیل سے سمجھ لیتا ہے کہ الہام الہی ایک متحقق الوجود صداقت ہے۔ اور اگر نفوس صافیہ میں سے ہو تو خود ٹھیک ٹھیک راہ راست پر چلنے سے کسی قدر بہ حیثیت نورانیت قلب اپنے کے الہام الہی کو اولیاء اللہ کی طرح پا بھی لیتا ہے جس سے وحی کر سالت پر بطور حق الیقین اس کو علم حاصل ہو جاتا ہے چنانچہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے قبول کرنے پر دلی سچائی اور روحانی صدق اور خالص اطاعت سے رغبت ظاہر کرے ہم ہی اس طور پر تسلی کر دینے کا ذمہ اٹھاتے ہیں۔ وان كان احد فی شک من قولى فليرجع الينا بصدق القدم والله على ما نقول قدير وهو في كل امر نصير ۲۱۲ اور یہ خیال کرنا کہ جو جو دقائق فکر اور نظر کے استعمال سے لوگوں پر گھلتے ہیں وہی الہام ہیں ۔ بجز ان کے اور کوئی شے الہام نہیں۔ یہ بھی ایک ایسا وہم ہے جس کا موجب صرف کور باطنی اور بے خبری ہے۔ اگر انسانی خیالات ہی خدا کا الہام ہوتے تو انسان بھی خدا کی طرح بذریعہ اپنے فکر اور نظر کے امور غیبیہ کو معلوم کر سکتا لیکن ظاہر ہے کہ گوانسان کیسا ہی دانا ہو مگر وہ فکر کر کے کوئی امر غیب بتلا نہیں سکتا اور کوئی نشان طاقت الوہیت کا ظاہر نہیں کر سکتا اور خدا کی قدرت خاصہ کی کوئی علامت اس کے کلام میں پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ اگر وہ فکر کرتا کرتا مر بھی جائے ۔ تب بھی ان پوشیدہ باتوں کو معلوم نہیں کر سکتا کہ جو اس کی عقل اور نظر اور حواس سے وراء الوراء ہیں اور نہ اس کا کلام ایسا عالی ہوتا ہے کہ جس کے مقابلہ سے انسانی قوتیں عاجز ہوں ۔ پس اس وجہ سے عاقل کو یقین کرنے کے لئے وجوہ کافی ہیں کہ جو کچھ انسان اپنی فکر اور نظر سے بھلے یا برے