براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۳۵ براہین احمدیہ حصہ سوم } اور باطنی کمالات میں برتر اور اعلیٰ اور عدیم المثال ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ خدا کے علم تام سے کسی کا علم برابر نہیں ہو سکتا ۔ اور اسی کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرما کر کہا ہے۔ خیالات پیدا کرتا ہے وہ خدا کا کلام نہیں بن سکتے۔ اگر وہ خدا کا کلام ہوتا تو انسان پر سارے غیب کے دروازے کھل جاتے اور وہ امور بیان کر سکتا جن کا بیان کرنا الوہیت کی قوت پر موقوف ہے کیونکہ خدا کے کام اور کلام میں خدائی کے تجلیات کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر کسی کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ نیک اور بد تدبیریں اور ہریک شرو خیر کے متعلق باریک حکمتیں اور طرح طرح کے مکر وفریب کی باتیں کہ جو فکر اور نظر کے وقت انسان کے دل میں پڑ جاتی ہیں۔ وہ کس کی طرف سے اور کہاں سے پڑتی ہیں اور کیونکر سوچتے سوچتے ایک دفعہ مطلب کی بات سوجھ جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام خیالات خلق اللہ ہیں امر اللہ نہیں۔ اور اس جگہ خلق اور امر میں ایک لطیف فرق ہے۔ خلق تو خدا کے اس فعل سے مراد ہے کہ جب خدائے تعالیٰ عالم کی کسی چیز کو بتوسط اسباب پیدا کر کے بوجہ علت العلل ہونے کے اپنی طرف اس کو منسوب کرے۔ اور امروہ ہے جو بلاتو سط اسباب خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہو اور کسی سبب کی اس سے آمیزش نہ ہو ۔ پس کلام الہی جو اس قادر مطلق کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ اس کا نزول عالم امر سے ہے نہ عالم خلق سے اور دوسرے جو جو خیالات انسانوں کے دلوں میں بوقت نظر اور فکر اٹھا کرتے ہیں۔ وہ بتمامہا عالم خلق سے ہیں کہ جن میں قدرت الہیہ زیر پر وہ اسباب و قوی متصرف ہوتی ہے اور (۲۱۳) اُن کی نسبت بسط کلام یوں ہے کہ خدا نے انسان کو اس عالم اسباب میں طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ پیدا کر کے ان کی فطرت کو ایک ایسے قانون فطرت پر مبنی کر دیا ہے۔ بھنے اُن کی پیدائش میں کچھ اس قسم کی خاصیت رکھ دی ہے کہ جب وہ کسی بھلے یا برے کام میں اپنی فکر کو متحرک کریں ۔ تو اسی کے مناسب ان کو تدبیریں سوجھ جایا کریں۔ جیسے ظاہری قوتوں اور حواسوں میں انسان کے لئے یہ قانون قدرت رکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھ کھولے تو کچھ نہ کچھ دیکھ لیتا ہے اور جب اپنے کانوں کو کسی آواز کی طرف لگاوے تو کچھ نہ کچھ سن لیتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی نیک یا بدکام میں کوئی کامیابی کا راستہ سوچتا ہے تو کوئی نہ کوئی تدبیر