براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 233
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۳۱ براہین احمدیہ حصہ سوم کوئی خامی اس صداقت میں نہیں پاؤ گے۔ اور کسی طرف سے کوئی رخنہ نہیں دیکھو گے ۔ ذات ازلی ابدی سے کیا نسبت اور مشت خاک کو نور وجوب سے کیا مشابہت ۔ جواب۔ یہ و ہم بھی سراسر بے اصل اور پوچ ہے اور اس کے قلع وقع کے لئے انسان کو اسی بات کا سمجھنا کافی ہے کہ جس کریم اور رحمان نے افراد کا ملہ بنی آدم کے دل میں اپنی معرفت ۲۰۹ کے لئے بے انتہا جوش ڈال دیا اور ایسا اپنی محبت اور اپنی انس اور اپنے شوق کی طرف کھینچا کہ وہ بالکل اپنی ہستی سے کھوئے گئے ۔ تو اس صورت میں یہ تجویز کرنا کہ خدا ان کا ہم کلام ہونا نہیں چاہتا۔ اس قول کے مساوی ہے کہ گویا ان کا تمام عشق اور محبت ہی عبث ہے اور ان کے سارے جوش یک طرفہ خیالات ہیں۔ لیکن خیال کرنا چاہیے کہ ایسا خیال کس قدر بیہودہ ہے۔ کیا جس نے انسان کو اپنے تقرب کی استعداد بخشی اور اپنی محبت اور عشق کے جذبات سے بے قرار کر دیا۔ اس کے کلام کے فیضان سے اس کا طالب محروم رہ سکتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ خدا کا عشق اور خدا کی محبت اور خدا کے لئے بے خود اور محو ہو جانا یہ سب ممکن اور جائز ہے اور خدا کی شان میں کچھ حارج نہیں مگر اپنے محبت صادق کے دل پر خدا کا الہام نازل ہونا غیر ممکن اور نا جائز ہے اور خدا کی شان میں حارج ہے۔ انسان کا خدا کی محبت کے بے انتہا دریا میں ڈو بنا اور پھر کسی مقام میں بس نہ کرنا اس بات پر شہادت قاطع ہے کہ اس کی عجیب الخلقت روح خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے۔ پس جو چیز خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے۔ اگر اس کو وسیلہ معرفت کامل جو الہام ہے عطا نہ ہو۔ تو یہ کہنا پڑے گا کہ خدا نے اس کو اپنی معرفت کے لئے نہیں بنایا۔ حالانکہ اس بات سے برہمو سماج والوں کو بھی انکار نہیں کہ انسان سلیم الفطرت کی روح خدا کی معرفت کی بھو کی اور پیاسی ہے۔ پس اب ان کو آپ ہی سمجھنا چاہیئے کہ جس حالت میں انسان صحیح الفطرت خود فطر نا خدا کی معرفت کا طالب ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ معرفت الہی کا ذریعہ کامل بجز الہام الہی اور کوئی دوسرا امر نہیں۔ تو اس صورت میں اگر وہ معرفت کامل کا ذریعہ غیر ممکن الحصول بلکہ اس کا تلاش کرنا دور از ادب ہے۔ تو خدا کی حکمت پر بڑا اعتراض ہوگا کہ اس نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے جوش تو دیا پر ذریعہ معرفت عطا نہ کیا۔ گویا جس قدر بھوک دی اس قدر روٹی دینا