براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 228

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۶ براہین احمدیہ حصہ سوم اور جس قدر انسان کمالات علمیہ رکھتا ہے۔ وہ کمالات ضرور اس کی علمی تقریر میں اس طرح پر نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک آئینہ صاف میں چہرہ نظر آتا ہے۔ اور حق اور حکمت الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ الجزء نمبر ۳ اپنے قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثار صدق ظاہر ہیں کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو سچا کرتا ہے۔ یعنے کتب سابقہ انبیاء میں جو اس کے بارے میں پیشین گوئیں موجود تھیں وہ اس کے ظہور سے یہ یا یہ صداقت پہنچ گئیں ۔ اور جن عقائد حقہ کے بارے میں ان کتابوں میں دلائل واضح موجود نہ تھیں۔ ان کے قرآن نے دلائل ہلائے اور ان کی تعلیم کو مرتبہ کمال تک پہنچایا۔ اس طور پر ان کتابوں کو سچا کیا جس سے خود سچائی اس کی ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے نشان صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لئے ضروری ہیں اور یہ اس لئے نشان صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع و محیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت وحقائق دقیقہ باہر نہ رہیں ۔ غرض ان تمام آیات میں خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ قرآن شریف ساری صداقتوں کا جامع ہے اور یہی بزرگ دلیل اس کی حقانیت پر ہے اور اس دعویٰ پر صدہا برس بھی گزر گئے ۔ پر آج تک کسی بر ہمو وغیرہ نے اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا۔ تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ بغیر پیش کرنے کسی ایسی جدید صداقت کے کہ جو قرآن شریف سے باہر رہ گئی ہو ۔ یونہی دیوانوں اور سودائیوں کی طرح اوہام باطلہ پیش کرنا جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو راست بازوں کی طرح حق کا تلاش کرنا منظور ہی نہیں بلکہ نفس امارہ کو خوش رکھنے کے لئے اس فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح خدا کے پاک احکام سے بلکہ خدا ہی سے آزادگی حاصل کر لیں۔ اسی آزادگی کے حصول کی غرض سے خدا کی کچی کتاب سے جس کی حقانیت اظہر من الشمس ہے ایسے منحرف ہورہے ہیں کہ نہ متکلم بن کر شائستہ طریق پر کلام کرتے ہیں اور نہ سامع ہونے کی حالت میں کسی دوسرے کی بات سنتے ہیں۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ کب کسی نے کوئی يوسف : ١١٢