براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 229

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۷ براہین احمدیہ حصہ سوم کے بیان کرنے کے وقت وہ الفاظ کہ جو اس کے مونہہ سے نکلتے ہیں۔ اس کی لیاقت علمی صداقت دینی قرآن کے مقابلہ پر پیش کی جس کا قرآن نے کچھ جواب نہ دیا اور خالی ہاتھ بھیج دیا جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف بآواز بلند دعوی کر رہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اس میں بھری پڑی ہیں۔ تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالیشان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے۔ اور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اس کے دعومی کوتو ڑ کر دکھلائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آ جاتا ہے۔ مگر ان کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی دینی بحث شروع بھی کریں تو اس کو مکمل طور پرختم کرنا نہیں چاہتے۔ بلکہ نا تمام گفتگو کا ہی جلدی سے گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ تا ایسا نہ ہو کہ کوئی صداقت ظاہر ہو جائے۔ اور پھر بے شرمی یہ کہ گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو ناقص بیان کرتے ہیں جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔ اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَى الجزو نمبر 4 بھنے آج میں نے اس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دیا اور اپنی تمام نعمتیں ایمانداروں پر پوری کر دیں۔ اے حضرات ! کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے رہو گے؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اس جھوٹے منہ پر لعنتیں نہیں پڑیں گی ؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لئے بیٹھے ہیں جس کی ۲۰۷ کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگافی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کا روبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے روبرو پیش کروتا ہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلا دیں مگر پھر مسلمان ہونے پر مستعد رہو اور اگر اب بھی آپ لوگ بد گمانی اور بک بک کرنا نہ چھوڑیں اور مناظرہ کا سیدھا راستہ اختیار نہ کریں تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لعنة الله على الكاذبين۔ الا اے کمر بستہ بر افترا مکش خویشتن را به ترک حیا بخاصان حق کینہ ات تا کجا گہے شرمت آید ز گیہان خدا المائدة : ۴