براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۰ براہین احمدیہ حصہ سوم فرسودہ روزگار ہو اور ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ جو شخص اس سے استعداد میں علم میں، ۲۰۲ لیاقت میں ، ملکہ میں، ذہن میں ، عقل میں کہیں فروتر اور منزل ہے وہ اپنی تحریر کو معلوم کر لیا ہے اور خود بخود ذہن خدائے تعالی کی کچی معرفت اور کامل شناسائی تک پہنچ گیا ہے۔ کون ہم کو ثابت کر کے دکھلا سکتا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی تھا کہ دنیا میں الہام الہی کا نام ونشان نہ تھا اور خدا کی مقدس کتابوں کا دروازہ بند تھا اور اس زمانے کے لوگ محض صحیفہ فطرت کے ذریعہ سے تو حید اور خداشناسی پر قائم تھے ۔ کون کسی ایسے ملک کا نشان بتلا سکتا ہے جس کے باشندے الہام کے وجود سے محض بے خبر رہ کر پھر فقط عقل کے ذریعہ سے خدا تک پہنچ گئے اور صرف اپنی ہی فکر و نظر سے وحدانیت حضرت باری پر ایمان لے آئے ۔ آپ لوگ کیوں جاہلوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کیوں بہ یکبارگی خدا سے بے خوف ہو کر فریب و تدلیس کی باتیں منہ پر لاتے ہیں اور جو کھلا ہوا ہے اس کو بند اور جو بند ہے اس کو کھلا ہوا بیان کرتے ہیں۔ کیا آپ کو اس ذات قادر مطلق پر ایمان ہے یا نہیں کہ جو انسان کے دل کی حقیقت خوب جانتا ہے اور جس کی نظر عمیق سے خیانت پیشہ لوگ پوشیدہ نہیں رہ سکتے ۔ لیکن یہی تو مشکل ہے کہ آپ کا ایمان ہی تنگ اور تاریک جگہ کی طرح ہے جس تک صاف اور بے دود روشنی کا نشان نہیں پہنچا۔ اسی وجہ سے آپ لوگوں کا مذہب بھی ہزاروں طرح کی تنگیوں اور ظلمتوں کا مجموعہ ہے اور ایسا منقبض ہے کہ کوئی گوشہ اس کا کھلا ہوا نظر نہیں آتا اور کوئی عقدہ صفائی اور درستی سے طے شده معلوم نہیں ہوتا۔ خدا کے وجود کے بارے میں تو تم سن ہی چکے ہو کہ آپ لوگوں کا ایمان کیسا اور کس قدر ہے۔ رہی یہ بات کہ جزا سزا کے معاملہ پر آپ لوگوں کے یقین کا کیا حال ہے اور قانون قدرت نے اس بارہ میں کن کن معارف کا آپ پر دروازہ کھول رکھا ہے۔ سو اس امر میں بھی بجز واہی خیالوں اور سوداوی وہموں کے اور کچھ بھی آپ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ۔ جزا سزا کی جزئیات دقیقہ تو یقینی طور پر کیا معلوم ہوں گی ۔ اول یہی بات آپ لوگوں پر یقینی طور پر ثابت نہیں کہ جزا سزا فی الواقعہ ایک امر شدنی ہے اور خدا ضرور انسانوں کو ان کے عملوں کا بدلہ دے گا۔ بھلا اگر معلوم ہے تو آپ ذرہ عقلی طور پر ثابت کر کے دکھلائیے کہ خدا پر