براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 219

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۷ براہین احمدیہ حصہ سوم لکھنا چاہیں کہ جو فضول اور کذب اور حشو اور لغو اور ہنرل اور ہر یک مہمل بیانی اور ژولیدہ ۱۹۹) زبانی اور دوسرے تمام امور محل حکمت و بلاغت اور آفات منافی کمالیت و جامعیت کا فتور وقصور پایا جاتا ہے وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کلام الہی سے فیض پایا۔ وہی چشمہ خدا کے کلام کا جوش مار کر دور دور تک بہ نکلا۔ اُس نے ہندوستان کے خشک شدہ باغ کو بھی ثلث کے قریب سرسبز کر دیا اور جو باقی رہ گئے ان میں سے بھی کئی دلوں پر اس پاک چشمہ کا اثر جا پڑا اور کچھ نہ کچھ ان کو بھی تو حید کی طرف کھینچ لایا ۔ قرآن کے پہنچنے سے پہلے جس حالت تک ہندوؤں کی گمراہی پہنچ گئی تھی وہ حالت ان پرانوں اور پستکوں کو پڑھ کر معلوم کرنی چاہیئے کہ جو قرآن کے آنے سے کچھ تھوڑے دن پہلے تصنیف ہو چکے تھے جن کی مشرکانہ تعلیموں نے تمام ہندوستان کو ایک دائرہ کی طرح گھیر لیا تھا تا تمہیں معلوم ہو کہ اس زمانے (199) میں تمہارے بزرگ رشیوں کے کیسے خیالات تھے اور تمہارے مرتاض منی اور رکھی کن کن تو ہمات باطلہ میں ڈوب گئے تھے اور کیونکر بے جان مورتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے اور آیا ہن کے منتر پڑھتے تھے ۔ باوصف اس کے کہ اس زمانہ میں بہت سا حصہ ان کو علوم عقلیہ میں سے حاصل ہو چکا تھا اور وید کے زمانہ کی نسبت فکر اور نظر کی مشق میں بہت کچھ ترقی کر گئے تھے بلکہ منطق اور فلسفہ میں یونانیوں سے کچھ کم نہ تھے ۔ مگر عقائد ایسے خراب اور نا پاک تھے کہ جو ظاہراً اور باطناً بتمامہا شرک کی غلاظتوں سے آلودہ تھے اور جن کو کوئی حقانی صداقت چھو بھی نہیں گئی تھی اور سر سے پاؤں تک جھوٹے اور بے بنیاد اور نکتے اور باطل تھے۔ جن کی تحریک سے تمام جہان کو آپ کے عقلمند بزرگوں نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا۔ اگر ایک درخت تازه و سرسبز و خوشنما نظر آیا اسی کو اپنا معبود ٹھہرایا ۔ اگر کوئی آگ کا شعلہ زمین سے نکلتا پایا۔ اس کی پوجا شروع کر دی۔ اور جس چیز کو اپنی صورت یا خاصیت میں عجیب دیکھا یا ہولناک معلوم کیا وہی اپنا پر میشر بنا لیا۔ نہ پانی چھوڑا نہ ہوا نہ آگ نہ پتھر نہ چاند نہ سورج نہ پرند نه چرند ۔ یہاں تک کہ سانپوں کی بھی پوجا کی۔ بلکہ ویدوں میں تو ابھی مخلوق پرستی کی تعلیم کچھ تھوڑی تھی اور مورت پوجا کا تو ہنوز کچھ ذکر ہی نہ تھا مگر جو صاحب