براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 217
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۵ براہین احمدیہ حصہ سوم 1 ہوتا ہے اور مثل اصلی بدیہات کے نظر آتا ہے جیسے منجملہ ان کے ایک وہ وجہ ہے جو ان نتائج متفاوتہ سے ماخوذ ہوتی ہے ۔ جن کا مختلف طور پر بحالت عمل صادر صحیفہ نہیں محض لا طائل اور سراسر حمق ہے۔ علاوہ برآں ہم پہلے اس سے برہمو سماج والوں کی خداشناسی کے بارہ میں یہ تفصیل لکھ چکے ہیں کہ ایمان ان کا جو صرف دلائل عقلیہ پر مبنی ہے ہونا چاہیئے کے مرتبے تک محدود ہے اور مرتبہ کاملہ ہے کا انہیں نصیب نہیں ۔ سو اس تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کھلا ہوا اور واضح راستہ معرفت الہی کا صرف بذریعہ کلام الہی ملتا ہے اور کوئی ذریعہ اس کے وصول و حصول کا نہیں ۔ ایک بچہ نوزاد کو تعلیم سے محروم رکھ کر صرف صحیفہ فطرت پر چھوڑ دو ۔ پھر دیکھو کہ وہ اس صحیفہ کے ذریعہ سے جس کو بر ہمو سماج والے کھلا ہوا خیال کر رہے ہیں کون سی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور کس درجہ خداشناسی پر پہنچ جاتا ہے ۔ بہت سے تجارب سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اگر کوئی سماعی طور پر جس کا اصل الہام ہے خدا کے وجود سے اطلاع نہ پاوے تو پھر اس کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ اس عالم کا کوئی صانع ہے یا نہیں ۔ اور اگر کچھ صانع کی تلاش میں توجہ بھی کرے تو صرف بعض مخلوقات جیسے پانی ۔ آگ ۔ چاند سورج وغیرہ کو اپنی نظر میں خالق و قابل پرستش قرار دے لیتا ہے ۔ جیسا یہ امر جنگلی آدمیوں پر نظر کرنے سے ہمیشہ بہ پا یہ تصدیق پہنچتا رہا ہے ۔ پس یہ الہام ہی کا فیض ہے جس کی برکتوں سے انسان نے اس خدائے بے مثل و مانند کو اسی طرح پر شناخت کر لیا جیسا اس کی ذات کامل و بے عیب کے لائق ہے ۔ اور جو لوگ الہام سے بے خبر ہو گئے اور کوئی کتاب الہامی ان میں موجود نہ رہی اور نہ کوئی ذریعہ الہام پر اطلاع پانے کا ان کو میسر آیا با وجود اس کے کہ آنکھیں بھی رکھتے تھے اور دل بھی مگر کچھ بھی معرفت الہی ان کو نصیب نہ ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ انسانیت سے بھی باہر ہو گئے اور قریب قریب حیوانات لا يعقل کے پہنچ گئے اور صحیفہ فطرت نے کچھ بھی ان کو فائدہ نہ پہنچایا ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا ۔ تو اس سے جنگلی لوگ فائدہ اٹھا کر معرفت اور خداشناسی میں ان لوگوں کے برابر ہو جاتے جنہوں نے بذریعہ الہام الہی خداشناسی میں ترقی کی۔