براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 216

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۴ براہین احمدیہ حصہ سوم بلکہ صاحب عقل اور بصیرت کے لئے علاوہ دلائل متذکرہ بالا کے کئی ایک اور وجوہ 192 بھی ہیں جن سے خدا کے کلام کا عدیم المثال ہونا اور بھی زیادہ اس پر واضح وہی ہے جس نے اپنا کارنمایاں اور نہایت عمدہ اور دیر پا نتائج دکھلا کر اپنی بے نظیر تا شیر کی دو بدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا۔ یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قد ر ا ثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ ان هذا الاسخر مبین لے۔ جزو نمبر 4 ہاں وہی ہے جس کی زبر دست کششوں نے ہزار ہا درجہ عادت سے بڑھ کر ایسا خدا کی طرف خیال دلایا کہ لاکھوں خدا کے بندوں نے خدا کی وحدانیت پر اپنے خون سے مہریں لگا دیں ۔ ایسا ہی ہمیشہ سے بانی کا ر اور بادی اس کام کا الہام ہی چلا آیا ہے جس سے انسانی عقل نے نشو ونما پایا۔ ورنہ بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں کے لئے بھی یہ بات سخت محال رہی ہے کہ ان کو امور ماوراء المحسوسات کی ہر جزئی کے دریافت کرنے میں ایسا موقعہ ہمیشہ مل جائے کہ یہ بات معلوم کر سکیں کہ کس کس وضع اور خصوصیت سے وہ جزئیات موجود ہیں اور جن کو طاقت بشری تک عقل حاصل ہی نہیں یا جہد اور کوشش کرنے کے سامان میسر نہیں آئے وہ تو انکی نسبت بھی زیادہ لاعلم اور بے خبر ہیں ۔ پس اس بارہ میں جو جو سہولتیں خدا کے بچے اور کامل الہام نے کہ جو قرآن شریف ہے عقل کو عطا کی ہیں اور جن جن سرگردانیوں سے فکر اور نظر کو بچایا ہے وہ ایک ایسا امر ہے کہ جس کا ہر یک عاقل کو شکر کرنا لازم ہے ۔ سو کیا اس اعتبار سے کہ ابتدا امر خدا شناسی کی الہام ہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور کیا اس وجہ سے کہ معرفت الہی کا ہمیشہ از سر نو زندہ ہونا الہام ہی کے ہاتھ سے ہوتا آیا ہے اور کیا اس خیال سے کہ مشکلات راہ سے رہائی پانا الہام ہی کی امداد پر منحصر ہے ہر عاقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ راہ جو نہایت صاف اور سیدھی اور ہمیشہ سے کھلی ہوئی اور مقصود تک پہنچاتی ہوئی چلی آئی ہے وہ وحی ربانی ہے ۔ اور یہ سمجھنا کہ وہ کھلا ہوا ۱۹۷ ل الصافات : ١٦ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' جز ونمبر۲۳ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)