براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 215
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۳ براہین احمدیہ حصہ سوم پا کر اپنے تئیں اس اقرار کے کرنے کے لئے مجبور پاتا ہے کہ کوئی چیز جو صا در من اللہ (۱۹۵) ہے ایسی نہیں ہے جس کی مثل بنانے پر انسان قادر ہو اور نہ کسی عاقل کی عقل یہ تجویز کر سکتی ہے کہ خدا کی ذات یا صفات یا افعال میں مخلوق کا شریک ہونا جائز ہے (۱۹۲ دلوں سے جوش مار کر نکلتی ہیں۔ پس اس جگہ بھی یہی ثابت ہوا کہ باعتبار شدت اثر بھی الہامی تربیت ہی مفتح الابواب ہے۔ غرض با عتبارعمومی تاثیر اور باعتبار شدت تاثیر فقط صحیفہ وحی کا کھلا ہوا ہونا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے وبس اور یہ مسئلہ بدیہات سے کچھ کم نہیں ہے کہ خدا کے بندوں کو زیادہ تر نفع پہنچانے والا وہی شخص ہوتا ہے کہ جو الہام اور عقل کا جامع ہو اور اس میں یہ لیاقت ہوتی ہے کہ ہر ایک طور کی طبیعت اور ہر قسم کی فطرت اس سے مستفیض ہو سکے مگر جو شخص صرف برامین منطقیہ کے زور سے راہ راست کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ اگر اس کی مغز زنی پر کچھ ترتیب اثر بھی ہو تو صرف ان ہی خاص طبیعتوں پر ہوگا کہ جو بوجہ تعلیم یافتہ ولائق و فائق ہونے کے اس کی عمیق و دقیق باتوں کو سمجھتے ہیں۔ دوسرے تو ایسا دل و دماغ ہی نہیں رکھتے کہ جو اس کی فلاسفری تقریر کو سمجھ سکیں۔ ناچار اس کے علم کا فیضان فقط انہیں قدر قلیل لوگوں میں محدود رہتا ہے کہ جو اس کی منطق سے واقف ہیں اور انہیں کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے کہ جو اُس کی طرح معقولی (۱۹۶) حجتوں میں دخل رکھتے ہیں۔ اس امر کا ثبوت اس حالت میں بوضاحت تمام ہو سکتا ہے کہ جب مجرد عقل اور الہام حقیقی کی کارروائیوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر وزن کیا جاوے۔ چنانچہ جن کو گزشتہ حکماء کے حالات سے اطلاع ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیسے وہ لوگ اپنی تعلیم کی اشاعت عامہ سے ناکام رہے اور کیونکر ان کے منقبض اور نا تمام بیان نے عام دلوں پر موثر ہونے سے اپنی محرومی دکھلائی۔ اور پھر بمقابلہ اس حالت منزلہ ان کی کے قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی تا شیروں کو بھی دیکھئے کہ کسی قوت سے اس نے وحدانیت الہی کو اپنے بچے متبعین کے دلوں میں بھرا ہے اور کس عجیب طور سے اس کی عالیشان تعلیموں نے صد ہا سالوں کی عادات راسخہ اور ملکات رڈیہ کا قلع و قمع کر کے اور ایسی رسوم قدیمہ کو کہ جو طبیعت ثانی کی طرح ہو گئیں تھیں دلوں کے رگ وریشہ سے اٹھا کر وحدانیت الہی کا شربت عذب کروڑ ہا لوگوں کو پلا دیا ہے۔