براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 211

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۹ براہین احمدیہ حصہ سوم بھلا دیا ہے جن کے دیکھنے کے لئے ہر یک صادر من اللہ آئینہ خدا نما ہونا چاہئے لیکن یہ سچائیاں ایسی روشن اور صاف ہیں کہ گو کوئی شخص اسلام کی جماعت میں (۱۹۳) نمبرا دلالت پر کفایت کریں اور تصریحات کلام الہی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بموجب دلالت فطرتی ہمارا یہ اصول ہونا چاہیئے کہ ہم جس چیز کو چاہیں بلا تفریق مواضع حلت و حرمت دیکھ لیا کریں اور جو چاہیں سن لیں اور جو بات دل میں آوے بول اٹھیں کیونکہ قانون فطرت ہم کو اس قدر سمجھاتا ہے کہ آنکھ دیکھنے کے لئے کان سننے کے لئے زبان بولنے کے لئے مخلوق ہے اور ہم کو صریح اس دھوکے میں ڈالتا ہے کہ گویا ہم قوت بصارت اور قوت سمع اور قوت نطق کے استعمال کرنے میں بگھی آزاد اور مطلق العنان ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اگر خدا کا کلام قانون قدرت کے اجمال کی تصریح نہ کرے اور اس کے ابہام کو اپنے بیان واضح اور کھلی ہوئی تقریر سے دور نہ فرما دے تو کس قدر خطرات ہیں جو محض قانون فطرت کا تابعدار ہو کر ان میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر یک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معینہ مشخصہ پر قائم کیا اور ادب انسانیت اور پاک روشی کا طریقہ سکھلایا۔ وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ الجز و نمبر ۱۸ اپنے مومنوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پر ہیز کریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا یعنے ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر (۱۹۳) نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قومی ہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی ۔ اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔ اسی طرح زبان کو صدق وصواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی اور کہا: قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا الجز و نمبر ۲۲ بنے وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت النور: ٣١ الاحزاب : اے