براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 210

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۸ براہین احمدیہ حصہ سوم کی کلام سے اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں میں برابر سمجھا ہے ۔وما قدروا الله حق درہ کا مصداق ہو کر خدا کی ان عظیم الشان قدرتوں اور باریک حکمتوں کو بھی تسلیم کیا کہ جس نے اس صحیفہ کو پڑھ کر خدا کے وجود کو ضروری نہیں سمجھا وہ اس قدر عمر پالے گا کہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جائے گا ۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا تھا تواس کو دیکھ کر ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیوں پڑ گئیں۔ کیا آپ کے نزدیک کھلی ہوئی کتاب اسی کو کہتے ہیں جس کو پڑھنے والے خدا کے وجود میں ہی اختلاف کریں اور بسم اللہ ہی غلط ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسی صحیفہ فطرت کو پڑھ کر ہزار ہا حکیم اور فلاسفر دہرئیے اور طبعی ہو کر مرے۔ یا بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور وہی شخص ان میں سے راہ راست پر آیا جو الہام الہی پر ایمان لایا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ بھی ہے کہ فقط اس صحیفہ کے پڑھنے والے بڑے بڑے فیلسوف کہلا کر پھر خدا کے مدیر و خالق بالا رادہ اور عالم بالجزئیات ہونے سے منکر رہے اور انکار ہی کی حالت میں مر گئے ۔ کیا خدا نے تم کو اس قدر بھی سمجھ نہیں دی کہ جس خط کے مضمون کو مثلاً زید کچھ سمجھے اور بکر کچھ خیال کرے اور خالدان دونوں کے برخلاف کچھ اور تصور کر بیٹھے تو اس خط کی تحریر کھلی ہوئی اور صاف نہیں کہلاتی بلکہ مشکوک اور مشتبہ اور مہم کہلاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی دقیق بات نہیں جس کے سمجھنے کے لئے باریک عقل درکار ہو بلکہ نہایت بدیہی صداقت ہے مگر ان کا کیا علاج جو سراسر تحکم کی راہ سے ظلمت کو نور اور نور کو ظلمت قرار دیں اور دن کو رات اور رات کو دن ٹھہر اوہیں۔ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ مطالب دلی کو پورا پورا بیان کرنے کے لئے یہی سیدھا راستہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ بذریعہ قول واضح کے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جائے کیونکہ دلی ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے صرف قوت نطقیہ آلہ ہے۔ اسی آلہ کے ذریعہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے مافی القلب سے مطلع ہوتا ہے۔ اور ہر یک امر جو اس آلہ کے ذریعہ سے سمجھایا نہ جائے وہ تفہیم کامل کے درجہ سے منقول رہتا ہے۔ ہزار ہا امور ایسے ہیں کہ اگر ہم ان میں فطرتی دلالت سے مطلب نکالنا چاہیں تو یہ امر ہمارے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے اور اگر فکر بھی کریں تو غلطی میں پڑ جاتے ہیں مثلاً ظاہر ہے کہ خدا نے آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے اور کان سننے کے لئے پیدا کئے ہیں۔ زبان بولنے کے لئے عطا کی ہے۔ اس قدر تو ہم نے ان اعضاء کی فطرت پر نظر کر کے اور ان کے خواص کو سوچ کر معلوم کر لیا لیکن اگر ہم اسی فطرتی