براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 209

روحانی خزائن جلد 1 ۲۰۷ براہین احمدیہ حصہ سوم بقيه حاشیه نمبر روگردان اور منکر کر دیا ہے۔ اور جنہوں نے مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر 191 ایمان لا کر اور کلمہ گو بنکر پھر بھی بے ایمانوں کی طرح کلام الہی کو ایک ادنیٰ انسان عظمت و قدرت شناخت کی جائے ۔ جیسا دوسری جگہ بھی فرمایا ہے ۔ وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّنْ مَّاءِ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَمْشِى عَلَى ارْبَعٍ يَخْلُقُ اللهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الجزو نمبر ۱۸ یعنی خدا نے ہر یک جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ سو بعض جاندار پیٹ پر چلتے ہیں اور بعض دو پاؤں پر ، بعض چار پاؤں پر ۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے یہ مختلف چیزیں اس لئے بنائیں کہ تا مختلف قدرتیں اس کی ظاہر ہوں ۔ غرض اختلاف طبائع جو فطرت مخلوقات میں واقع ہے۔ اس میں حکمت الہیہ انہیں امور ثلاثہ میں منحصر 191 ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے آیات ممدوحہ میں بیان کر دیا۔ فتدبر وسوسه ششم: معرفت کامل کا ذریعہ وہ چیز ہو سکتی ہے جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں کھلے طور پر نظر آتی ہو۔ سو یہ صحیفہ نیچر کی خاصیت ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا اور ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور یہی رہبر ہونے کے لائق ہے کیونکہ ایسی چیز کبھی رہنما نہیں ہو سکتی جس کا دروازہ اکثر اوقات بندر ہتا ہو اور کسی خاص زمانہ میں کھلتا ہو۔ جواب۔ صحیفہ فطرت کو بمقابلہ کلام الہی کھلا ہوا خیال کرنا یہی آنکھوں کے بند ہونے کی نشانی ہے۔ جن کی بصیرت اور بصارت میں کچھ خلل نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اسی کتاب کو کھلے ہوئے کہا جاتا ہے جس کی تحریر صاف نظر آتی ہو جس کے پڑھنے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہتا ہو۔ پر کون ثابت کر سکتا ہے کہ مجرد صحیفہ قدرت پر نظر کرنے سے کبھی کسی کا اشتباہ دور ہوا ؟ کس کو معلوم ہے کہ اس نیچری تحریر نے کبھی کسی کو منزل مقصود تک پہنچایا ہے؟ کون دعوی کر سکتا ہے کہ میں نے صحیفہ قدرت کے تمام دلالات کو بخوبی سمجھ لیا ہے؟ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا تو جو لوگ اسی پر بھروسہ کرتے تھے وہ کیوں ہزار ہا غلطیوں میں ڈوبتے۔ کیوں اسی ایک صحیفہ کو پڑھ کر با ہم اس قدر مختلف الرائے ہو جاتے کہ کوئی خدا کے وجود کا کسی قدر قائل اور کوئی سرے سے انکاری ۔ ہم نے بفرض محال یہ ا النور : ٤٦