براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 203

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۱ براہین احمدیہ حصہ سوم خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ﴿۱۸۵ ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے ہونا ظا ہر فر ما یا اور کہا لَا رَيْبَ فِيهِ بعنے قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت مدلل و معقول پر واقعہ ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں ۔ یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں بلکہ ادلہ یقینیہ و براہین قطعیہ پر مشتمل ہے اور اپنے مطالب پر حجج بینہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے اور فی نفسہ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے۔ اور خدا شناسی کے بارے میں صرف ہونا چاہیے کے ظنی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا بلکہ ہے کے یقینی اور قلعی مرتبہ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ تو عمل عملاشہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہر سہ علتوں کے جن کو تا شیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے۔ علت رابعہ یعنے علت غائی نزول قرآن شریف کو جو رہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا اور فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِین یعنے یہ کتاب صرف این جو ہر قابلہ کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و فهم مستقیم و شوق طلب حق و نیت صحیح انجام کار درجه ایمان و خداشناسی و تقوی کال پر پہینچ جائیں گے ۔ یعنے جن کو خدا اپنے علم قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے۔ اور وہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں ۔ وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہر حال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی ۔ اور قبل اس کے جو وہ مریں ۔ خدا ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔ اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ (۱۸۶) نے صاف فر ما دیا کہ جولوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔ اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو