براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 204
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۲ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۸۲ بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لواب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے 61126 ارے خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گو ان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کا ملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے ۔ غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں اور یہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی۔ لیکن جو لوگ منتقلی نہیں ہیں ۔ نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ خواہ نخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس حالت میں دنیا میں دو طور کے آدمی پائے جاتے ہیں۔ بعض متقی اور طالب حق جو ہدایت کو قبول کر لیتے ہیں اور بعض مفسد الطبع جن کو نصیحت کرنا نہ کرنا برابر ہوتا ہے۔ اور ابھی ہم یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف ان تمام لوگوں کو جن تک اس کی ہدایت دم مرگ تک نہیں پہنچی یا آئندہ نہ پہنچے قسم دوم میں داخل رکھتا ہے تو اس صورت میں بمقابلہ قرآن شریف یہ دعویٰ کرنا کہ شاید وہ لوگ جن کو ہدایت قرآنی نہیں پہنچی اول قسم میں بھنے ہدایت پانے والوں کے گروہ میں داخل ہوں گے احمقانہ دعوی ہے۔ کیونکہ شاید کوئی دلیل قطعی نہیں ہے لیکن قرآن شریف کا کسی امر کے بارہ میں خبر دینا دلیل قطعی ہے ۔ وجہ یہ کہ وہ دلائل کا ملہ سے اپنا منجانب اللہ اور مخبر صادق ہونا ثابت کر چکا ہے۔ پس جو شخص اس کی خبر کو دلیل قطعی نہیں سمجھتا۔ اس پر لازم ہے کہ اس کی حقانیت کے دلائل کو جن میں سے کسی قدر ہم نے بھی اس کتاب میں لکھے ہیں تو ڑ کر دکھلائے ۔ اور جب تک توڑنے سے عاجز اور لا جواب ہے تب تک اس کے لئے طریق انصاف و ایمانداری یہ ہے کہ اس امر کو صحیح اور درست سمجھے جس کے صحیح ہونے کی نسبت ایسی کتاب میں خبر موجود ہے جو فی نفسہ ثابت الصداقت ہے کیونکہ ایک کتاب ثابت الصداقت کا کسی امر ممکن الوقوع کی نسبت خبر دینا اس امر کے وجود واقعی پر شہادت قاطعہ ہے اور ظاہر ہے کہ ایک شہادت قاطعہ اور ثبوت قطعی کو چھوڑ کر بمقابلہ اس کے بے بنیاد و ہموں کو پیش کرنا اور خیالات بے اصل کو دل میں جگہ دینا غباوت اور سادہ لوحی کی نشانی ہے۔