براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 202
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۸۴ بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے ۱۸۵ بقیه حاشیه نـ کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ) أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ ) الجزو نمبرا ۔ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ ) - وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - الجزء نمبر ۲۸ - آیات مندرجہ بالا میں پہلے اس آیت پر یعنے الم ذلك الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ پر غور کرنا چاہیے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسہ مذکور کا جواب دیا ہے ۔ اوّل قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا الم میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں ۔ پھر بعد اس کے علت مادی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذلك الكتب وہ کتاب ہے یعنے ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علت مادی علم الہی ہے یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حکیم مطلق ہے ۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وہ کا لفظ اختیار کرنے سے جو بعد اور دوری کے لئے آتا ہے ۔ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے جس کے علوم کاملہ واسرار دقیقہ نظر انسانی کی حد جولان سے بہت بعید اور دور ہیں ۔ پھر بعد اس کے علت صوری کا قابل تعریف البقرة : ٢ - الجمعة : ۳-۵