براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 200
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۹۸ براہین احمدیہ حصہ سوم (۱۸۳) جمال وحسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے اندرونی کا قوت عقلیہ ہے۔ پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی کا جو وحی ہے نازل ہونا بیان فرمایا۔ یہ نور وحی ہے۔ اور انوار ثلاثہ مل کر لوگوں کی ہدایت کا موجب ٹھہرے۔ یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارہ میں قدوس قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب ۔ پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ جب تک نور قلب و نور عقل کسی انسان میں کامل درجہ پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نور وحی ہر گز نہیں پاتا اور پہلے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کمال عقل و کمال نورانیت قلب صرف بعض افراد بشریہ میں ہوتا ہے کل میں نہیں ہوتا۔ اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افراد کا مالہ کو ملتی ہے نہ ہر یک فرد بشر کو ۔ پس اس قطعی ثبوت سے برہم سماج والوں کا خیال فاسد بکلی درہم برہم ہو گیا اور یہی مطلب تھا۔ وسوسہ پنجم ۔ بعض بر ہم سماج والے یہ وسوسہ پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر کامل معرفت قرآن پر ہی موقوف ہے تو پھر خدا نے اس کو تمام ملکوں میں اور تمام معمورات قدیم وجدید میں کیوں شائع نہ کیا اور کیوں کروڑ ہا مخلوقات کو اپنی معرفت کا ملہ اور اعتقاد صحیح سے محروم رکھا۔ جواب۔ یہ وسوسہ بھی کو نہ اندیشی سے پیدا ہوا ہے کیونکہ جس حالت میں بکمال صفائی ثابت ہو چکا ہے کہ حصول یقین کامل و معرفت کامل مجرد عقل کے ذریعہ سے ہرگز ممکن نہیں بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا یقین اور کامل عرفان صرف ایسے الہام کے ذریعہ سے ملتا ہے جو اپنی ذات اور کمالات میں بے مثل و مانند ہو اور بوجہ بے نظیری منجانب اللہ ہونا اس کا بین الثبوت ہو اور نیز ہم نے کتاب لذا میں یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے مثل کتاب جو دنیا میں پائی جاتی ہے فقط قرآن شریف ہے ویس ۔ تو اس صورت میں سیدھا راستہ طالب حق کے لئے یہ ہے کہ یا تو ہماری دلائل کو توڑ کر یہ ثابت کر کے دکھلا دے کہ مجرد عقل انسان کو امور معاد میں یقین کامل و معرفت صحیحہ ویقینیہ کے مرتبہ تک پہنچا سکتی ہے اور اگر یہ ثابت نہ کر سکے تو پھر قرآن شریف کی حقانیت کو قبول کرے جس کے ذریعہ سے معرفت کامل کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو بھی قبول کرنا منظور نہ ہو تو پھر اس کی کوئی نظیر