براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 191
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۹ براہین احمدیہ حصہ سوم اور عقل کے اندھو! کیا تمہارے نزدیک خدا کے کلام کی فصاحت بلاغت مکھی کے ۱۷۵ نہیں۔ اس کے سمجھنے کے لئے آفتاب نہایت روشن مثال ہے۔ کیونکہ ہر چند آفتاب اپنی کر میں چاروں طرف چھوڑ رہا ہے۔ لیکن اس کی روشنی قبول کرنے میں ہر یک مکان برابر نہیں ۔ جس مکان کے دروازے بند ہیں اس میں کچھ روشنی نہیں پڑ سکتی اور جس میں بمقابل آفتاب ایک چھوٹا سا روز نہ ہے اس میں روشنی تو پڑتی ہے مگر تھوڑی جو بکلی ظلمت کو نہیں اٹھا سکتی ۔ لیکن وہ مکان جس کے دروازے بمقابل آفتاب سب کے سب کھلے ہیں اور دیوار میں بھی کسی کثیف شے سے نہیں بلکہ نہایت مصفی اور روشن شیشہ سے ہیں۔ اس میں صرف یہی خوبی نہیں ہوگی کہ کامل طور پر روشنی قبول کرے گا۔ بلکہ اپنی روشنی چاروں طرف پھیلا دے گا اور دوسروں تک پہنچا دے گا۔ یہی مثال موخر الذکر نفوس صافیہ انبیاء کے مطابق حال ہے۔ یعنی جن نفوس مقدسہ کو خدا اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے وہ بھی رفع حجب اور مکمل صفوت میں اس شیش محل کی طرح ہوتے ہیں جس میں نہ کوئی کثافت ہے اور نہ کوئی حجاب باقی ہے ۔ پس ظاہر ہے کہ جن افراد بشریہ میں وہ کمال تام موجود نہیں۔ ایسے لوگ کسی حالت میں مرتبہ رسالت الہی نہیں پاسکتے ۔ بلکہ یہ مرتبہ قسام ازل سے انہیں کو ملا ہوا ہے جن کے نفوس مقدسہ حجب ظلمانی سے بکلی پاک ہیں۔ جن کو اغشیہ جسمانی سے بغایت درجہ آزادگی ہے۔ جن کا تقدس و تنزہ اس درجہ پر ہے جس کے آگے خیال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ۔ وہی نفوس تامہ کا ملہ وسیلہ ہدایت جمیع مخلوقات ہیں اور جیسے حیات کا فیضان تمام اعضاء کو قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ ایسا ہی حکیم مطلق نے ہدایت کا فیضان انہیں کے ذریعہ سے مقرر کیا ہے ۔ کیونکہ وہ کامل مناسبت جو مفیض اور مستفیض میں چاہیئے وہ صرف انہیں کو عنایت کی گئی ہے۔ اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ خداوند تعالیٰ جو نہایت تجرد و تنزہ میں ہے ایسے لوگوں پر افاضہ انوار وحی مقدس اپنے کا کرے جن کی فطرت کے دائرہ کا اکثر حصہ ظلمانی اور دود آمیز ہے اور نیز نہایت تنگ اور منقبض اور جن کی طبائع خسیسہ کدورات سطلیہ میں منغمس اور آلودہ ہیں۔ اگر ہم اپنے تئیں آپ ہی دھوکا نہ 19 کا ہے دیں تو بے شک ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ مبدہ قدیم سے اتصال نام پانے کے لئے اور اس