براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 190
۱۷۵ روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن خدا کے کلام کی فصاحت اور بلاغت ایسی بے نظیر نہیں ہو سکتی جس پر نظر کرنے سے اس کلام کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو ۔ غافلو ! منتر جنتر یا کوئی خاص مذہب اختیار کرنا اس کی طبیعت کو بدلا دے گا۔ اسی جہت سے اُس نبی معصوم نے جس کی لبوں پر حکمت جاری تھی فرمايا خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام نے جو لوگ جاہلیت میں نیک ذات ہیں وہی اسلام میں بھی داخل ہو کر نیک ذات ہوتے ہیں۔ غرض طبائع انسانی جواہر کافی کی طرح مختلف الاقسام ہیں ۔ بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف۔ بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑ کنے والی ۔ بعض زیق کی طرح بے ثبات اور بے قرار ۔ بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف ۔ اور جیسا یہ اختلاف طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی انتظام ربانی کے بھی موافق ہے۔ کچھ بے قاعدہ بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں کہ قانون نظام عالم کے برخلاف ہو بلکہ آسائش و آبادی عالم اسی پر موقوف ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبہ استعداد پر ہوتیں تو پھر مختلف طور کے کام ( جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے ) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حتی التوا میں رہ جاتے ۔ کیونکہ کثیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں۔ یونانی حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جو ہر نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقعہ ہو ۔ تا جس طرح طبائع انسانی کا سلسلہ نیچے کی طرف اس قدر متنزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جا کر اتصال پکڑ لیا ہے اسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہو کہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑ لے۔ اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ افراد بشریہ عقل میں ۔ قومی اخلاقیہ میں ۔ نور قلب میں متفاوت المراتب میں تو اسی سے وحی ربانی کا بعض افراد بشریہ سے خاص ہونا بھنے ان سے جو من كل الوجوہ کامل ہیں یہ پایہ ثبوت پہنچ گیا۔ کیونکہ یہ بات تو خود ہر ایک عاقل پر روشن ہے کہ ہر یک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الہیہ کو قبول کرتا ہے۔ اس سے زیادہ