براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 189

روحانی خزائن جلد ۱۔ IAZ براہین احمدیہ حصہ سوم صورت اور باطنی ترکیب میں ایسی بے مثل ہے کہ اس پر نظر کرنے سے اس کا خدا کی طرف سے ۱۷۴ فرمایا ہے ۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رحِيمًا الجز نمبر ۵ ۔ یعنے جس سے کوئی بد عملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا ۔ اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے یعنے اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔ بھنے جب بھی کوئی بشر بر وقت صدور لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے ۔ اور یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرف ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گنہ گار تو بہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے ۔ پس خدا کا قانون ۷۴ کے قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھو کر نہ کھاویں یا جو لوگ قومی ہیمیہ یا عصبیہ کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے بلکہ اُس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں ۔ لیکن جو شخص بعض قوتوں میں فطرنا ضعیف ہے وہ قومی نہیں ہوسکتا ۔ اس میں تبدیل پیدائش لازم آتی ہے اور وہ بداہتا محال ہے اور خود مشہود و محسوس ہے کہ مثلاً جس کی فطرت میں سریع الغضب ہونے کی خصلت پائی جاتی ہے وہ بھی الغضب ہرگز نہیں بن سکتا بلکہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسا آدمی غضب کے موقعہ پر آثار غضب بلا اختیار ظاہر کرتا ہے اور ضبط سے باہر آ جاتا ہے یا کوئی نا گفتنی بات زبان پر لے آتا ہے۔ اور اگر کسی لحاظ سے کچھ صبر بھی کرے تو دل میں ضرور پیچ و تاب کھاتا ہے۔ پس یہ احمقانہ خیال ہے کہ کوئی النساء: ااا