براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 187
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۵ براہین احمدیہ حصہ سوم کا کوئی کام بے نظیر نہیں اور خدا کے سارے کام اور جو کچھ اُس سے صادر ہوا بے نظیر ہے (۱۷۲) اشارہ ہے اور نیز فرمایا۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الجز و نمبر ۲۷۔ یعنے میں نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری پرستش کریں۔ یہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ پرستش الہی ایک فطرتی امر ہے۔ پس جب توحید الہی اور پرستش الہی سب بنی آدم کے لئے فطرتی امر ہوا اور کوئی آدمی سرکشی اور بے ایمانی کے لئے پیدا نہ کیا گیا تو پھر جو امور بر خلاف خدا دانی و خدا ترسی ہیں کیونکر فطرتی امر ہو سکتے ہیں۔ یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ وہ امر جو آیات مندرجہ بالا سے ثابت ہوتا ہے وہ تو صرف اسی قدر ہے کہ انسان کی فطرت میں رجوع الی اللہ اور اقرار وحدانیت کا قتم بویا گیا۔ یہ کہاں آیات موصوفہ میں لکھا ہے کہ وہ ختم ہر ایک فطرت میں مساوی ہے بلکہ جا بجا قرآن شریف میں اسی بات کی تصریح ہے کہ وہ تم بنی آدم میں متفاوت المراتب ہے۔ کسی میں نہایت کم ۔ کسی میں متوسط کسی میں نہایت زیادہ ۔ جیسا ایک جگہ فرمایا ہے۔ فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيْرَتِ الجزء نمبر ۲۲ یعنے بنی آدم کی فطرتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ ظالم ہیں جن کے نور فطرتی کو قومی بہیمیہ یا غضبیہ نے دبایا ہوا ہے۔ بعض درمیانی حالت میں ہیں۔ بعض نیکی اور رجوع الی اللہ میں سبقت لے گئے ہیں۔ اسی طرح بعض کی نسبت فرمایا۔ وَاجْتَبَيْلهم =ے۔ الجز نمبرے ۔ اور ہم نے ان کو چین لیا بھنے وہ باعتبار اپنی فطرتی قوتوں کے دوسروں میں سے چیدہ اور برگزیدہ تھے۔ اس لئے قابل رسالت و نبوت ٹھہرے۔ اور بعض کی نسبت فرمایا۔ اوليك كالا نْعَامِ " الجزو نمبر و تعنے ایسے ہیں جیسے چار پائے اور نور فطرتی ان کا اس قدر کم ہے کہ ان میں اور مویشی میں کچھ تھوڑا ہی فرق ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ اگر چہ خدائے تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم تو حید ہر یک نفس میں موجود ہے۔ لیکن ساتھ ہی اُس کے یہ بھی کئی مقامات میں کھول کر بتلا دیا ہے کہ وہ تخم سب میں مساوی نہیں۔ بلکہ بعض کی فطرتوں پر جذبات نفسانی ان کے ایسے غالب آگئے ہیں کہ وہ نور کا مفقود ہو گیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ قومی بہیمیہ یا صوبیہ کا فطرتی ہونا وحدانیت الہی کے فطرتی ہونے کو منافی الذاریات: ۵۷ ۲ فاطر : ۳۳ ۳ الانعام: ۸۸ الاعراف: ۱۸۰