براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 186

۱۷۲ روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۴ براہین احمدیہ حصہ سوم نمبراا بیخ کنی ہے۔ جبکہ یہ بات نہایت واضح اور مضبوط دلائل سے ثابت ہوتی ہے کہ بندوں یا درکھنا چاہیئے کہ ایسے خیالات انہیں لوگوں کے دل میں اٹھتے ہیں جنہوں نے علوم طبعی اور طبابت میں کبھی غور نہیں کی۔ یا جن کی آنکھیں فرط تعصب اور مخلوق پرستی سے اندھی ہو گئی ہیں ورنہ طبائع مختلفہ کا مسئلہ یہاں تک ثابت ہے کہ حکماء نے جب اس بارہ میں تحقیق کی تو متواتر تجربوں سے ان پر یہ امر کھل گیا کہ بزدل یا شجاع ہونا اور طبعا ممسک ہوتا یا سخی ہوتا اور ضعیف العقل یا قوی العقل ہونا اور دنی الہمت یا رفیع الہمت ہونا اور بردبار یا مغلوب الغضب ہونا اور فاسد الخیال یا صالح الخيال ہونا یہ اس قسم کے عوارض نہیں ہیں کہ سرسری اور اتفاقی ہوں۔ بلکہ صانع قدیم نے بنی آدم کی کیفیت مواد اور کمیت اخلاط اور سینہ اور دل اور کھوپڑی کی وضع خلقت میں مختلف طور پر طرح طرح کے فرق رکھے ہیں۔ انہیں فرقوں کے باعث سے افراد انسانی کی قومی اخلاقیہ اور عقلیہ میں فرق بین نظر آتا ہے۔ اس قدیم رائے کو ڈاکٹروں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ ان کا بھی یہ قول ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کی کھو پریوں کو جب غور سے دیکھا گیا تو ان کی وضع ترکیب ایسی پائی گئی جو اسی فرقہ فاسد الخیال سے مخصوص ہے۔ بعض یونانیوں نے اس سے بھی کچھ بڑھ کر لکھا ہے ۔ بعض گردن اور آنکھ اور پیشانی اور ناک اور دوسرے کئی اعضاء سے بھی اندرونی حالات کا استنباط کرتے ہیں۔ بہر حال یہ ثابت ہو چکا ہے اور اس کے ماننے سے کچھ چارہ نہیں کہ بنی آدم کا خلقی اور عقلی استعدادوں میں فطرتی تفاوت واقع ہے اور ہر یک نفس کسی قدر صلاحیت کی طرف تو قدم رکھتا ہے۔ مگر اپنی قابلیت کے دائرہ سے زیادہ نہیں۔ شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ خدا نے اعتقاد تو حید کو سب انسانوں میں فطرتی بیان کیا ہے اور فرمایا ہے ۔ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ الخلق الله الجز و نمبر ۲ یعنے توحید پر قائم ہونا انسان کی فطرت میں داخل ہے جس پر انسانی پیدائش کی بنیاد ہے اور نیز فرمایا۔ الَستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى - الجز نمبر و یعنے ہر یک روح نے ربوبیت الہیہ کا اقرار کیا۔ کسی نے انکار نہ کیا۔ یہ بھی فطرتی اقرار کی طرف الروم: ۳۱ ۲ الاعراف: ۱۷۳