براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 185

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۳ براہین احمدیہ حصہ سوم اسی اُصول سے وابستہ ہے کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہے وہ بے نظیر مان لیں ۔ تو پھر بندوں کے لئے بھی وہی صفت تجویز کرنا جو کہ خدا کی صفت خاصہ ہے عقل اور ایمان کی اے کے ہے کہ اگر تفاوت فی العقول نہ ہو تو فہم علوم میں کیوں اختلاف پایا جاوے۔ کیوں بعض اذہان بعضوں پر سبقت لے جائیں ۔ حالانکہ جو لوگ تعلیم و تربیت کا پیشہ رکھتے ہیں وہ اس امر کو خوب سمجھتے ہوں گے کہ بعض طالب العلم ایسے ذکی الطبع ہوتے ہیں کہ ادنی رمز اور اشارت سے مطلب کو پا جاتے ہیں ۔ بعض ایسے بیدار مغز کہ خود اپنی طبع سے عمدہ عمدہ باتیں نکالتے ہیں اور بعضوں کی طبیعتیں اصل فطرت سے کچھ ایسی نجمی و بلید واقع ہوتی ہیں کہ ہزار تم اُن سے مغز زنی کرو کیسا ہی کھول کر سمجھاؤ بات کو نہیں سمجھتے اور اگر تعب شدید کے بعد کچھ سمجھے بھی تو پھر حافظہ ندارد۔ ایسے جلد بھولتے ہیں جیسے پانی کا نقش مٹ جاتا ہے۔ اسی طرح قومی اخلاقیہ اور انوار قلبیہ میں بغایت درجہ تفاوت پایا جاتا ہے ۔ ایک ہی باپ کے دو بیٹے ہوتے ہیں اور ایک ہی استاد سے تربیت پاتے ہیں پر کوئی ان میں سے سلیم الطبع اور نیک ذات نکلتا ہے اور کوئی خبیث اور شریر النفس اور کوئی بزدل اور کوئی شجاع اور کوئی غیور اور کوئی بے غیرت ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شریر النفس بھی وعظ و نصیحت سے کسی قدر صلاحیت پر آ جاتا ہے کبھی بزدل بھی بوجہ کسی نفسانی طمع کے کچھ دلیری ظاہر کرتا ہے جس سے کم تجر بہ آدمی اس غلطی میں پڑ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اصلیت کو چھوڑ دیا ہے ۔ لیکن ہم 121 بار بار یاد دلاتے ہیں کہ کوئی نفس اپنی قابلیت کی حد سے آگے قدم نہیں رکھتا۔ اگر کچھ ترقی کرتا ہے تو اسی دائرے کے اندر اندر کرتا ہے جو اس کی فطرتی طاقتوں کا دائرہ ہے ۔ بہت سے کم فہم لوگوں نے یہ دھوکا کھایا ہے کہ قومی فطرتیہ بذریعہ ریاضات مناسبہ اپنے پیدائشی اندازے سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تر مہمل اور دور از عقل عیسائیوں کا قول ہے کہ صرف مسیح کو خدا ماننے سے انسان کی فطرت منقلب ہو جاتی ہے اور گو کیسا ہی کوئی من حیث الخلقت قومی سبعیہ یا قومی شہو یہ کا مغلوب ہو ۔ یا قوت عقلیہ میں ضعیف ہو ۔ وہ فقط حضرت عیسی کو خدائے تعالیٰ کا اکلوتا بیٹا کہنے سے اپنی جبلی حالت چھوڑ دیتا ہے ۔لیکن