براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 184
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۲ براہین احمدیہ حصہ سوم بے نظیری کے رتبہ پر ہے کہ اس صانع وحید کے وجود پر دلالت کامل کر رہا ہے ۔ اور اگر (۱۷۰) یہ ذریعہ نہ ہوتا تو پھر عقل کو خدا تک پہنچنے کا راستہ مسدود تھا ۔ اور جبکہ خدا کو شناخت کرنا ۱۷۰ رکھا ہے جس کی ایک طرف نہایت ارتفاع پر واقعہ ہوا اور دوسری طرف نہایت ان حضاض پر ۔ طرف ارتفاع میں وہ نفوس صافیہ ہیں جن کی استعداد میں حسب مراتب متفاوتہ کامل درجہ پر ہیں اور طرف ان حضاض میں وہ نفوس ہیں جن کو اس سلسلہ میں ایسی پست جگہ ملی ہے کہ حیوانات لا یعقل کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور درمیان میں وہ نفوس ہیں جو عقل وغیرہ میں درمیان کے درجہ میں ہیں۔ اور اس کے اثبات کے لئے مشاہدہ افراد مختلفة الاستعداد کافی دلیل ہے ۔ کیونکہ کوئی عاقل اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ افراد بشریہ عقل کے رو سے تقویٰ اور خدا ترسی کے لحاظ سے محبت الہیہ کی وجہ سے مختلف مدارج پر پڑی ہوئی ہیں ۔ اور جس طرح قدرتی واقعات سے کوئی خوبصورت پیدا ہوتا ہے کوئی بدصورت کوئی سو جا کھا کوئی اندھا کوئی ضعیف البصر کوئی قومی البصر کوئی نام الحلقت کوئی ناقص الخلقت ۔ اسی طرح قومی دماغیہ اور انوار قلبیہ کا تفاوت مراتب بھی مشہود اور محسوس ہے۔ ہاں یہ بیچ بات ہے کہ ہر ایک فرد بشر بشر طیکہ نرا مخبط الحواس اور مسلوب العقل نہ ہو عقل میں ، تقویٰ میں ، محبت الہیہ میں ترقی کر سکتا ہے مگر اس بات کو بخوبی یا درکھنا چاہئے کہ کوئی نفس اپنے دائرہ قابلیت سے زیادہ ہر گز ترقی نہیں کر سکتا ۔ ایک شخص جو اپنے قومی و مانیہ میں من حیث الفطرت نہایت کمزور ہے۔ مثلا فرض کرو کہ ایک ایسا ادھورا آدمی ہے جس کو ہمارے ملک کے عوام الناس دولے شاہ کا چوہا کہا کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر چہ اس کی تعلیم و تربیت میں کیسی ہی کوشش و محنت کی جائے اور خواہ کیسا ہی کوئی بڑا فلا سفر اس کا اتالیق بنایا جاوے لیکن جب بھی وہ اس فطرتی حد سے جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دی ہے زیادہ ترقی کرنے پر قادر نہیں ہوگا ۔ کیونکہ وہ باعث تنگی دائرہ قابلیت ان مراتبہ عالیہ تک ہرگز پہنچ نہیں سکتا جن تک ایک وسیع القوی آدمی پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایسا بد یہی مسئلہ ہے کہ میں باور نہیں کر سکتا کہ کوئی عاقل اس میں غور کر کے پھر اس سے منکر رہے ۔ ہاں جو شخص ربقہ عقل سے قطعا مخلع ہو اگر وہ منکر ہو تو کچھ تعجب نہیں۔ ظاہر