براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 183

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۱ براہین احمدیہ حصہ سوم کے کاموں میں صریح فرق دیکھے اور پھر نہ دیکھے ۔ وہ اندھا اور نادان ہی ہوا اور کیا (۱۶۹) ہوا۔ پس اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ بے نظیر ہونے کی حقیقت اور کیفیت ربانی کام اور کلام سے مختص ہے اور ہر یک دانشمند جانتا ہے کہ خدا کی خدائی ماننے کے لئے بڑا بھارا ذریعہ جو کہ عقل کے ہاتھ میں ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک صادر من اللہ ایسی صفتوں کے ساتھ پھر کیونکر ممکن ہے کہ بعض صفات کا ملہ اس کے بندوں کے کسی کام نہ آویں۔ کیا اس سے زیادہ تر کوئی اور کفر ہو گا کہ یہ کہا جاوے کہ وہ پورا رب العالمین نہیں ہے بلکہ آدھایا تیسرا حصہ ہے۔ وسوسہ چہارم ۔ اگر تحمیل معرفت الہامی کتاب پر ہی موقوف ہے تو اس صورت میں بہتر یہ تھا کہ (۱۶۹ تمام بنی آدم کو الہام ہوتا تا سب لوگ براہ راست مرتبہ کمال معرفت تک پہنچ جاتے اور ربانی فیض کو بلا واسطہ حاصل کر لیتے۔ کسی دوسرے کی حاجت نہ ہوتی ۔ کیونکہ اگر الہام فی نفسہ ایک جائز الوقوع امر ہے تو پھر ہر یک انسان کا ملہم ہونا جائز ہے اور اگر نہیں تو پھر کسی فرد کا بھی ملہم ہونا جائز نہیں۔ جواب۔ صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے اور ہر ایک پر حقانی وحی نازل ہو جایا کرے۔ اس کی طرف اللہ تعالی نے قرآن شریف میں آپ ہی اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُون مِثْلَ مَا أُوتِي رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ الجز و نمبر ۸ یعنے جس وقت قرآن کی حقیت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشانی کفار کو دکھلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب الہی نازل نہ ہو تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہیئے ۔ بھنے قابل اور نا قابل اسے معلوم ہے اور اسی پر فیضان الہام کرتا ہے کہ جو جو ہر قابل ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکیم مطلق نے افراد بشریہ کو بوجہ مصالحہ مختلفہ مختلف طوروں پر پیدا کیا ہے اور تمام بنی آدم کا سلسلۂ فطرت ایک ایسے خط سے مشابہ الانعام : ۱۲۵