براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 182
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۰ براہین احمدیہ حصہ سوم اور پھر اس زور وشور کا کبھی کسی انسان نے بھی کیا ؟ ہرگز نہیں ۔ پس جس حالت میں ۱۲۸ کسی بشر نے اپنی کلام کے بے مثل ہونے میں دم بھی نہ مارا۔ اور نہ اپنی قومی کو قومی بشریہ سے کچھ زیادہ خیال کیا بلکہ صد با نامی گرامی شاعروں نے لڑ کر مرنا اختیار کیا مگر قرآن شریف جیسا کوئی کلام بقدر ایک سورت بھی نہ بنا سکے تو پھر خواہ نخواہ ان بیچاروں کی کلام خام کو بے نظیر ٹھہرانا اور صفت کا ملہ خاصہ الہیہ میں انہیں شریک کرنا پرلے درجے کی نادانی وکوری ہے۔ کیونکہ جو شخص اس قدر دلائل واضحہ سے خدا اور انسان اطلاع نہیں دی۔ بلکہ یہ سارا منصوبہ انسان ہی کا ہے۔ اس کے دل میں خود بخود بیٹھے بیٹھے یہ بات گد گدائی کہ کوئی خدا مقرر کریں۔ چنانچہ اس نے کبھی پانی کو خدا بنا یا کبھی درختوں کو کبھی پتھروں کو بنایا کو ۔ آخر آپ ہی دل میں یہ خیال جمالیا کہ یہ چیزیں خدا نہیں ہیں خدا کوئی اور ہو گا جو ہمیں نظر نہیں آتا۔ کیا یہ اعتقاد انسان کو اس وہم میں نہیں ڈالے گا کہ اگر واقعی طور پر اس خدائے مفروض کا کچھ وجود بھی ہوتا تو وہ کبھی تو ان لوگوں کی طرح جو زندہ اور موجود ہوتے ہیں اپنے وجود سے اطلاع دیتا۔ بالخصوص جب اس خیال کا پابند دیکھے گا کہ خدا تعالی کو ادھورا اور ناقص یا گونگا تجویز کرنا ٹھیک نہیں بیٹھتا بلکہ جیسے اُس کے لئے دیکھنا۔ سننا۔ جاننا وغیرہ صفات کا ملہ ضروری ہیں ایسا ہی اس میں قدرت تکلم بھی پائی جانا ضروری معلوم ہوتی ہے تو پھر اس حیرت میں پڑے گا کہ اگر کلام کرنے کی قدرت بھی اس میں پائی جاتی ہے تو اس کا ثبوت کہاں ہے۔ اور اگر نہیں پائی جاتی تو پھر وہ کامل کیونکر ہوا۔ اور اگر کامل نہیں تو پھر خدا بننے کے لائق کیونکر ٹھہرا۔ اور اگر اس کا گونگا ہونا جائز ہے تو پھر کیا وجہ کہ بہرہ ہونا یا اندھا ہونا جائز نہیں ۔ پس وہ ان شبہات سے صرف الہام پر ایمان لا کر نجات پائے گا ورنہ جیسے ہزار ہا فلاسفر د ہر یہ پن کے گڑھے میں گر کر مرگئے ایسا ہی وہ بھی گر کر مرے گا۔ اب ہر ایک منصف آپ ہی انصاف کرے کہ کیا یہ اعتقاد خدا سے انکار کرانے کی پڑی جمانے والا ہے یا نہیں ۔ کیا جس شخص کی نظر میں خدا ایسا کمزور ہے کہ اگر منطقی لوگ پیدا نہ ہوتے تو وہ ہاتھ ہی سے گیا تھا اُس کے ایمان کا بھی کچھ ٹھکانہ ہے؟ نادان لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا تو اپنی تمام صفتوں کے ساتھ بندوں کا پرورندہ ہے نہ بعض